"> ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بلوچستان میں مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کی کامیاب ترین کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہوں پر مجبور

عوامی حمایت سے محروم کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے نے بلوچستان میں مشترکہ پناہ گاہیں قائم کر کے باہمی تعاون مزید بڑھا لیا، دہشت گرد نیٹ ورک مضبوط ہونے لگے۔
عوامی حمایت سے محروم کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے نے بلوچستان میں مشترکہ پناہ گاہیں قائم کر لیں؛ پاکستان کا کابل کو تحریری ضمانت تک مذاکرات سے صاف انکار۔

پاکستانی کارروائیوں کے بعد ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بلوچستان منتقل۔ پاکستان نے تحریری ضمانت کے بغیر افغان طالبان سے مذاکرات مسترد کر دیے۔

July 8, 2026

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) خیبرپختونخوا میں پاک فوج کے شدید ترین ردعمل اور عوامی حمایت سے مکمل محرومی کے بعد اب بلوچستان میں جائے پناہ تلاش کرنے پر مجبور ہو گئی ہے، جہاں اس نے نسلی و لسانی عصبیت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ مشترکہ پناہ گاہوں کے لیے ہاتھ ملا لیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے افغان طالبان کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور کابل کی جانب سے تحریری ضمانت کی فراہمی تک افغانستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

نظریاتی حریفوں کا گٹھ جوڑ

دفاعی و تزویراتی ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ الہندوستان (بی ایل اے) پاک فوج کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والے بڑے جانی نقصان کے بعد ایک دوسرے سے اشتراک پر مجبور ہوئے ہیں۔

نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے یکسر مختلف یہ دونوں تنظیمیں اب مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں، جہاں ٹی ٹی پی اپنی کارروائیوں کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتی ہے جبکہ بی ایل اے نسلی و لسانی عصبیت کے نام پر متحرک ہے۔ ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور مالی معاونت بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے جبکہ ان کے لیے زمین افغانستان کی استعمال ہو رہی ہے۔

مذاکرات کی ناکامی

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق اکتوبر 2025 تک پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارت کاری کی بھرپور کوششیں کیں، تاہم افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ کوششیں بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔

مارچ اور اپریل 2026 میں سرحدی کشیدگی کے بعد چین کی ثالثی میں ہونے والے سہ فریقی اُرومچی مذاکرات سمیت استنبول اور دوحہ مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے، کیونکہ کابل حکومت ٹی ٹی پی کے حوالے سے کوئی بھی تحریری اور قابلِ تصدیق ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ موجودہ سفارتی جمود اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند نہیں ہو جاتا۔

طالبان کے لیے تنبیہ

افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی آصف درانی نے طالبان حکومت اور نئی دہلی کی ہندوتوا قیادت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ طالبان کو عالمی سطح پر نہایت محدود سفارتی قبولیت حاصل ہے۔

اگر وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت دو درجن سے زائد دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے رہے، تو خطہ دوبارہ نائن الیون سے پہلے والی خطرناک صورتحال کی طرف جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے بھی افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *