کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) خیبرپختونخوا میں پاک فوج کے شدید ترین ردعمل اور عوامی حمایت سے مکمل محرومی کے بعد اب بلوچستان میں جائے پناہ تلاش کرنے پر مجبور ہو گئی ہے، جہاں اس نے نسلی و لسانی عصبیت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ مشترکہ پناہ گاہوں کے لیے ہاتھ ملا لیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے افغان طالبان کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور کابل کی جانب سے تحریری ضمانت کی فراہمی تک افغانستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
نظریاتی حریفوں کا گٹھ جوڑ
دفاعی و تزویراتی ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ الہندوستان (بی ایل اے) پاک فوج کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والے بڑے جانی نقصان کے بعد ایک دوسرے سے اشتراک پر مجبور ہوئے ہیں۔
نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے یکسر مختلف یہ دونوں تنظیمیں اب مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں، جہاں ٹی ٹی پی اپنی کارروائیوں کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتی ہے جبکہ بی ایل اے نسلی و لسانی عصبیت کے نام پر متحرک ہے۔ ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور مالی معاونت بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے جبکہ ان کے لیے زمین افغانستان کی استعمال ہو رہی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق اکتوبر 2025 تک پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارت کاری کی بھرپور کوششیں کیں، تاہم افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ کوششیں بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔
مارچ اور اپریل 2026 میں سرحدی کشیدگی کے بعد چین کی ثالثی میں ہونے والے سہ فریقی اُرومچی مذاکرات سمیت استنبول اور دوحہ مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے، کیونکہ کابل حکومت ٹی ٹی پی کے حوالے سے کوئی بھی تحریری اور قابلِ تصدیق ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ موجودہ سفارتی جمود اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند نہیں ہو جاتا۔
طالبان کے لیے تنبیہ
افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی آصف درانی نے طالبان حکومت اور نئی دہلی کی ہندوتوا قیادت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ طالبان کو عالمی سطح پر نہایت محدود سفارتی قبولیت حاصل ہے۔
اگر وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت دو درجن سے زائد دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے رہے، تو خطہ دوبارہ نائن الیون سے پہلے والی خطرناک صورتحال کی طرف جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے بھی افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کی ہے۔