"> ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار میں شدید اختلافات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جماعت الاحرار پیسوں کے عوض اہداف تبدیل کرتی ہے، ٹی ٹی پی رکنِ شوریٰ کا سنگین الزام

ٹی ٹی پی شوریٰ کے رکن مفتی برجاں نے جماعت الاحرار کو فتنہ انگیز اور مجرمانہ گروہ قرار دیتے ہوئے قیادت کے فیصلے کے مطابق ان کے خلاف سخت ترین کاروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹی ٹی پی شوریٰ کے رکن مفتی برجاں نے جماعت الاحرار کو فتنہ انگیز اور مجرمانہ گروہ قرار دیتے ہوئے قیادت کے فیصلے کے مطابق ان کے خلاف سخت ترین کاروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کی مرکزی شوریٰ کے رکن مفتی برجاں کا جماعت الاحرار کے خلاف سنگین الزامات پر مبنی بیان سامنے آگیا۔

May 23, 2026

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے دھڑے جماعت الاحرار کے مابین اندرونی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی مرکزی شوریٰ کے اہم رکن مفتی برجاں نے جماعت الاحرار کو ایک فتنہ انگیز گروہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے مقابلے میں کسی بھی دوسری متوازی تنظیمی ساخت یا نظام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم محاذ کے مطابق مفتی برجاں نے اپنے تازہ ترین بیان میں جماعت الاحرار پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے متوازی اپنی الگ تنظیمی ساخت کا اعلان کر کے صفوں میں دانستہ طور پر اختلافات پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی قیادت کی جانب سے جماعت الاحرار کے خلاف گرفتاری یا ہلاکت سے متعلق جو بھی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، اس پر ہر قیمت پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، خواہ اس کارروائی کے دوران انہیں خود بھی اپنی جان سے کیوں نہ ہاتھ دھونا پڑے۔

محاذ کے مطابق مفتی برجاں نے جماعت الاحرار کے مالی معاملات اور کاروائیوں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت الاحرار ایک ایسا مجرمانہ گروہ ہے جو محض پیسوں کے عوض اپنے نظریاتی اہداف تبدیل کر لیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی نے خیر سگالی کے تحت جماعت الاحرار کو اپنے اندر جگہ دی تھی اور انہیں ساتھ ملایا تھا، مگر اس گروہ نے مسلسل دھوکہ دہی، عہد شکنی اور مجرمانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کر کے تنظیم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں میں اس نوعیت کی کھلم کھلا بیان بازی اور دھمکیاں مستقبل میں ان کے مابین خونریز تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

دیکھیے: فتنہ الخوارج ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛ گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کا اتحاد ختم ہونے کے قریب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *