کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے دھڑے جماعت الاحرار کے مابین اندرونی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی مرکزی شوریٰ کے اہم رکن مفتی برجاں نے جماعت الاحرار کو ایک فتنہ انگیز گروہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے مقابلے میں کسی بھی دوسری متوازی تنظیمی ساخت یا نظام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم محاذ کے مطابق مفتی برجاں نے اپنے تازہ ترین بیان میں جماعت الاحرار پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے متوازی اپنی الگ تنظیمی ساخت کا اعلان کر کے صفوں میں دانستہ طور پر اختلافات پیدا کر رہا ہے۔
Breaking news: Mufti Borjan, a member of the TTP’s leadership council, said in a statement that Jamaat-ul-Ahrar is a mischief-making group that is creating divisions by announcing its own organizational structures in Pakistan in competition with the TTP. He said that they will… pic.twitter.com/wtmaUeGcdt
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 23, 2026
انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی قیادت کی جانب سے جماعت الاحرار کے خلاف گرفتاری یا ہلاکت سے متعلق جو بھی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، اس پر ہر قیمت پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، خواہ اس کارروائی کے دوران انہیں خود بھی اپنی جان سے کیوں نہ ہاتھ دھونا پڑے۔
محاذ کے مطابق مفتی برجاں نے جماعت الاحرار کے مالی معاملات اور کاروائیوں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت الاحرار ایک ایسا مجرمانہ گروہ ہے جو محض پیسوں کے عوض اپنے نظریاتی اہداف تبدیل کر لیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی نے خیر سگالی کے تحت جماعت الاحرار کو اپنے اندر جگہ دی تھی اور انہیں ساتھ ملایا تھا، مگر اس گروہ نے مسلسل دھوکہ دہی، عہد شکنی اور مجرمانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کر کے تنظیم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں میں اس نوعیت کی کھلم کھلا بیان بازی اور دھمکیاں مستقبل میں ان کے مابین خونریز تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
دیکھیے: فتنہ الخوارج ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛ گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کا اتحاد ختم ہونے کے قریب