عمر نذیر کشمیری نے کالعدم جے اے اے سی کے اندر مسلح افراد کی موجودگی کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس اعتراف کے بعد آزاد کشمیر میں امن و قانون کو سبوتاژ کرنے والے شرپسند عناصر اور ان کے سرغنوں کی مفاد پرستی کی سیاست بے نقاب ہو چکی ہے۔
مریں گے، مر جائیں گے، انقلاب لے آئیں گےجیسے جذباتی نعرے عوام کو ورغلانے کا ذریعہ بنائے جا رہے ہیں۔ کالعدم فسادیوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ عوام کے جذبات سے کھیلنا اور ذاتی مفادات حاصل کرنا بند کریں، کیونکہ باشعور عوام نعروں اور عملی خدمت کے فرق کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔
آزاد کشمیر کے لوگ امن، استحکام اور بچوں کے روشن مستقبل کو ترجیح دیتے ہیں۔ اشتعال انگیزی اور انتشار سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ تعلیم، کاروبار اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ حقیقی عوامی خدمت کا تقاضا امن اور مسائل کا پُرامن حل ہے۔
کالعدم فسادی جتھے اب باز آ جائیں، کیونکہ عوام کھوکھلے نعروں اور مفاد پرستی کی سیاست کو پہچان چکی ہے۔ کشمیری عوام کو اشتعال انگیز نعروں کے بجائے عملی اقدامات، پائیدار امن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔





