اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ نے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی محفوظ پناہ گاہوں اور افغان طالبان کی حمایت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عالمی تجزیہ کار میتھیو جیمز کے مطابق یہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان میں بدامنی کا مرکزی محور ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 2 ہزار مسلح جنگجو اپنے خاندانوں کے ساتھ موجود ہیں۔ انہیں افغان طالبان کی جانب سے لاجسٹک اور عملی معاونت بھی مل رہی ہے۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی تنظیمی توسیع اور آپریشن خیبر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ القاعدہ کی جانب سے ٹی ٹی پی کو تربیت، نظریاتی رہنمائی اور جدید عسکری ہتھیار دیے جا رہے ہیں۔ اسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کا روزِ اول سے مؤقف رہا ہے کہ کابل انتظامیہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پورے کرے۔ اسلام آباد بارہا آگاہ کر چکا ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے ہی خطے میں بدامنی کی اصل وجہ ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قربانیاں دی ہیں۔ افغان سرزمین پر موجود یہ دہشت گرد نیٹ ورک نہ صرف پاکستان کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام کو داؤ پر لگا رہا ہے۔
دیکھیے: ٹی ٹی پی اور افغان طالبان میں اختلافات کا دعویٰ من گھڑت پراپیگنڈا قرار