امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، جس کے فوراً بعد ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں فوجی اہداف پر بمباری شروع کر دی گئی ہے۔ اس صورتحال کے بعد خطے میں جنگ کے خطرات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل 7 گھنٹے تک جاری رہنے والے ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی پٹی کے قریب واقع درجنوں اہم فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان فضائی اور بحری حملوں میں ایران کا ساحلی دفاعی نظام، بحری اثاثے، میزائل اور ڈرون تیار کرنے والی تنصیبات شامل تھیں۔ یہ کارروائی ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے تمام تجارتی و بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ فعال کرنے کے چند گھنٹے بعد شروع کی گئی۔
دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے بھی ملک کے طول و عرض میں امریکی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر سیریک، بندر عباس، چابہار، بامپور، اہواز اور تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرہ قشم سمیت مختلف علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جہاں کئی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔