امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 22 جنوری 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کے ایک سال بعد امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدہ ہو گیا ہے، جس کے لیے صدر ٹرمپ نے 2020 سے کوششیں جاری رکھی تھیں۔ امریکی قانون کے مطابق بین الاقوامی ادارے سے علیحدگی کے لیے ایک سال پیشگی نوٹس اور تمام بقایا واجبات کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ تاہم ادارے سے باضابطہ علیحدگی کے باوجود اب تک سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
یہ تاریخی قدم امریکہ کی جانب سے 66 بین الاقوامی اداروں، بشمول اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے متعدد ماحولیاتی، صنفی اور ترقیاتی اداروں سے پسپائی کے رجحان کا تازہ ترین اظہار ہے۔ تجزیہ کار اسے پرانے دور کی کثیرالجہتی حکمرانی سے امریکی لاتعلقی کے ایک واضح اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انخلاء کا عمل اور قانونی سوالات
20 جنوری 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت کے پہلے ہی دن ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے ذریعے امریکہ کے عالمی ادارہ صحت سے انخلاء کا عمل شروع کیا گیا۔ تاہم 1948 میں منظور ہونے والی ایک مشترکہ کانگریسی قرارداد پر مبنی امریکی قانون کے مطابق کسی بھی ایسے انخلاء کے لیے ادارے کو ایک سال پہلے تحریری نوٹس دینا اور تمام واجب الادا رقوم ادا کرنا لازمی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے 2024 اور 2025 کے دوران عالمی ادارہ صحت کو تقریباً 260 سے 278 ملین ڈالر کی واجب الادا رقوم ادا نہیں کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے بعض حکام نے امریکہ کے انخلاء کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ادارے کی جانب سے غور و فکر
رپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے اس پورے معاملے پر فروری 2026 کے اوائل میں غور کرنے کا امکان ہے۔ اجلاس میں انخلا کی قانونی نوعیت، امریکہ کی باقی مالی ذمہ داریوں اور اس اقدام کے عالمی صحت کے محاذ پر مرتب ہونے والے ممکنہ اثرات جیسے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
عالمی ادارہ صحت کی تاریخ میں امریکہ کا یہ انخلا ایک نازک موڑ ہے، کیونکہ امریکہ طویل عرصے سے ادارے کا سب سے بڑا فنڈ دینے والا ملک رہا ہے۔ اس کے عالمی صحت کے پروگراموں، تحقیق اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پر گہرے اثرات مرتسم ہو سکتے ہیں۔