ازبکستان کے نائب وزیراعظم جمشید خوجائیف دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ اپنے اس اہم دورے کے دوران وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سمیت متعدد اہم امور پر بڑی پیش رفت متوقع ہے۔
اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں توسیع اور ترامیم سے متعلق پروٹوکول پر دستخط بھی متوقع ہیں۔
مجوزہ معاہدے کے تحت چین کوریڈور کو اضافی تجارتی راستے کے طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سامان کی بلا تعطل نقل و حمل جاری رکھی جا سکے۔
اس انتظام کے تحت پاکستان، ازبکستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے چین کے راستے تجارتی رسائی حاصل کرے گا، جبکہ ازبکستان کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی کی سہولت بھی برقرار رہے گی۔
دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور علاقائی روابط کے فروغ سے متعلق تفصیلی بات چیت بھی ہو گی۔
اس موقع پر پاکستان اور ازبکستان کے درمیان پانچ سالہ تجارتی و اقتصادی تعاون کے روڈ میپ پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔
دورے کے دوران بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) فورم بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں ازبکستان کی 100 سے زائد کمپنیوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔