بھارت اور افغانستان میں خواتین کے حقوق اور آزادیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ خواتین پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے مذہب اور روایات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک میں خواتین کے کردار کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں خواتین کے مندروں میں داخلے پر تنازعات طویل عرصے سے جاری ہیں۔ اس کے علاوہ ہندو قوم خواتین کو محض علامتی تعظیم دیتی ہے۔ تاہم عملی زندگی میں خواتین کی خودمختاری کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت خواتین پر سخت ترین پابندیاں نافذ ہیں۔ لہٰذا افغان خواتین کو تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق نصف افغان خواتین مہینے میں بمشکل باہر نکلتی ہیں۔ دراصل لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر بدستور مکمل پابندی عائد ہے۔
طالبان ان پالیسیوں کو اسلامی قوانین کا نام دیتے ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کے ادارے ان اقدامات کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے طالبان سے خواتین کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دیکھیے: بدخشاں: طالبان کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ