افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک بار پھر پاک افغان تعلقات میں موجود دراڑوں اور بیانیے کے تضاد کو واضح کر دیا ہے۔ طلوع نیوز پر نشر ہونے والی اس گفتگو میں جہاں ترجمان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی سے انکار کیا، وہی زمینی حقائق اور بین الاقوامی مانیٹرنگ ٹیموں کے اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے عدم جارحیت کا دعویٰ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی ان حالیہ رپورٹوں سے براہِ راست متصادم ہے جن میں تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان میں اس وقت تحریکِ طالبان پاکستان سمیت بیس سے زائد دہشت گرد تنظیمیں اور ہزاروں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی بحران کو محض اندرونی ناکامی قرار دینا حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے، کیونکہ صرف سال 2025 میں ہونے والے 600 سے زائد حملوں کے ڈورے افغان سرزمین سے ملتے ہیں۔
سرحدی کشیدگی کے حوالے سے یہ مؤقف کہ پاکستان نے بلا اشتعال کارروائی کی، ریکارڈ پر موجود سفارتی کوششوں کے برعکس ہے۔ پاکستان کی جانب سے متعدد بار احتجاجی مراسلے، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحدی ہم آہنگی کے اجلاسوں کے ذریعے افغان حکام کو انٹیلی جنس پر مبنی شواہد فراہم کیے گئے تھے۔ پاکستان کی حالیہ محدود اور ہدفی کارروائیاں ان مخصوص دہشت گرد انفراسٹرکچرز کے خلاف تھیں جو مسلسل سرحد پار حملوں میں ملوث تھے۔
ویډیو: د پاکستان پر پوځي رژیم د افغانستان اسلامي امارت د ویاند ذبیحالله مجاهد خبري کنفرانس#طلوعنیوز pic.twitter.com/jCZ0KFlSOw
— TOLOnews (@TOLOnews) February 27, 2026
طالبان کی جانب سے پاکستانی نقصانات کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں کو دفاعی ماہرین مبالغہ آمیز قرار دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 53 مقامات پر کی گئی موثر کاروائیوں میں 274 جنگجو ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ 73 چوکیاں اور 115 کے قریب عسکری گاڑیاں ناکارہ بنا دی گئی ہیں۔ مزید برآں، یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ 18 اہم افغان عسکری پوزیشنیں اس وقت پاکستان کے کنٹرول میں ہیں، جو طالبان کے میدانِ جنگ میں کامیابی کے دعوؤں کو کمزور ثابت کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خودمختاری کے لبادے میں دہشت گردی کے ڈھانچے کا دفاع خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ طالبان کی جانب سے سرحدی سیکٹرز میں کشیدگی بڑھانا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں، جو دوطرفہ تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
دیکھیے: اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے؛ خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو سخت پیغام