مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

ناروےطالبان کو قبول کرنے والا پہلا یورپی مُلک

ناروے نے طالبان کی عبوری حکومت کے مقررکردہ سفارتکار کو باضابطہ طورپرقبول کرلیاہے۔
ناروے کے طالبان کے ساتھ سفارتی روابط

ناروے کے طالبان کے ساتھ سفارتی روابط

June 20, 2025

ناروے نے ایک بڑی پیشِ رفت میں طالبان کی عبوری حکومت کے مقررکردہ سفارتکار کو باضابطہ طورپرقبول کرلیاہے۔جوکہ طالبان حکومت کے ساتھ یورپی روابط میں ایک اہم قدم تصور کیا جارہاہے۔ تاہم طالبان سفارتکار کی تقرری سے یورپی کی سطح پر ایک نئی بحث چھڑچکی ہے کہ اس قسم کی عملی سفارکاری انسانی و علاقائی مفادات کو کس طرح متاثرکرسکتی ہے۔

تعلقات میں پیشِ رفت


افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے مذکورہ فیصلے کی تصدیق بروزِ جمعرات کی ہے۔قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے اس پیشِ رفت کو باہمی اعتماد میں پختگی اور نہایت ہی اہم قراردیتے خصوصی شکریہ اداکیا دیا۔ناروے اگرچہ یورپین یونین کا رُکن نہیں ہے لیکن یورپی اقتصادی علاقے کا حصہ ہونے کی بنا پر یورپی خارجہ پالسی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔لہذا ناروے کامذکورہ عمل پورے برِ اعظم میں اثرانداز ہوسکتاہے۔


علاقائی صورتحال


ملاقات کے دوران امیر خان متقی نے خطے کی کشیدگی بالخصوص ایران پر جاری مسلط جنگ پرگفتگو کرتے ہوئےایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کا ظہارکیا اور کہا کہ اسلامی و انسانی اقدار کے تحت ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہماری ذمہ داری ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق ناروے نے خطے کی حالیہ پیشی رفت کونہ صرف تسلیم کیا بلکہ افغانستان میں اپنا ایک اعلیٰ سطح ناروےوفد کےدورے کا بھی اعلان کیا تاکہ تعلقات کی مزید راہیں تلاش کی جاسکیں۔


طالبان حکومت سے تعلقات


اگرچہ بین الاقوامی برادری اب بھی طالبان کو باضابطہ طورپر تسلیم نہین کرتی لیکن طالبان سفارتکاری کی تعیناتی سے یہ بات واضح ہوتی ہیکہ عملی سفارتی رابطے ممکن ہیں۔ناروے کا فعل یہ بات ظاہر کرتاہیکہ سفارتی تعلقات چاہے رسمی ہی کیوں نہ ہوں تاہم حکمتِ عملی اور انسانی مقاصد کے لیے اہم ہوسکتےہیں۔
ناروے کی اس حکمتِ عملی کو خطے بھر میں سفارتی رابطوں کے ایک نئے عمل کےطورپردیکھاجارہاہے۔بھرحال آنے والے دنوں میں یہ دیکھںا ہوگا کہ دیگر یورپی ممالک کیا رد عمل دیتےہیں۔

دیکھیں: افغانستان کا چین سے تیل معاہدہ ختم

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *