حالیہ سفارتی منظرنامے میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب ایک خبر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹی رپورٹنگ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا کے ایک حصے میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں روس سے ثالثی کی درخواست کی ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی سختی سے تردید کر دی گئی ہے۔
بے بنیاد دعوؤں کی حقیقت
رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفیر نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تنازع میں روس کی ثالثی کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ سفیر نے اس من گھڑت دعوے کو پیش کرنے والے صحافی سے سرے سے کوئی ملاقات ہی نہیں کی، جس کے باعث یہ خبر صحافتی اخلاقیات کے منافی اور محض ڈس انفارمیشن کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی
دوسری جانب ایک بین الاقوامی جریدے ‘دی ڈپلومیٹ’ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ تنازع میں روس کی ممکنہ ثالثی پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماسکو نے احتیاط کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملات سلجھانے کی پیشکش کی ہے، جس پر پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی کا یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ پاکستان اس شاندار پیشکش کو سراہتا ہے اور ماسکو کے ساتھ رابطے میں ہے۔
دہشت گردی اور علاقائی استحکام
پاکستانی سفیر نے مذاکرات کاروں کے ذریعے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ امن کے مواقع کو محض دوبارہ منظم ہونے، ہتھیار جمع کرنے یا حملوں کے لیے استعمال نہ کریں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان اور روس جیسی بڑی اور مستحکم ریاستوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے غیر مستحکم کرنا ممکن نہیں ہے۔