حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

April 14, 2026

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دوسری جانب کی پوزیشن واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کا اگلا مرحلہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کے لیے ترجیحی مقام ہوگا۔

April 14, 2026

ایران پر امریکی حملہ بھارتی فضائی حدود کا استعمال اور پاکستان کا صاف انکار

امریکی حملہ بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران پر حملہ کرنے کےلیے بھارتی فضائی حدود استعمال کی
امریکی حملہ بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران پر حملہ کرنے کےلیے بھارتی فضائی حدود استعمال کی

21 اور 22 جون کی درمیانی شب ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والےامریکی حملےمیں بھارتی فضائی حدود استعمال کی گئی

June 23, 2025

تاریخ23جون2025


اسلام آباد:21 اور 22 جون کی درمیانی شب ایران کی جوہری تنصیبات پرامریکی حملہ میں بھارتی فضائی حدود استعمال کی گئی۔امریکی فضائیہ کے بی ٹو بمبار طیاروں نے گوام سے اُڑان بھری بحیرہ انڈمان وسطی بھارت اور عرب سمندر کے راستے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوکراپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔
دفترِ خارجہ نے ان تمام افواہوں کی تردید کردی جن میں یہ دعویٰ کیاگیاتھا کہ پاکستان نے امریکی حملے میں کوئی مدد فراہم کی۔پاکستانی حکام کے مطابق جغرافیائی لحاظ سے امریکہ کے پاس دوسرے کئی مختصر و فضائی راستے موجود تھے۔

بے بنیاد معلومات کی تردید

پاکستان کی سفارتی


پاکستان کے وزیرِ خارجہ جنرل ریٹائرڈ عاصم منیر نےکشیدگی کو روکنے کےلیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔انہوں نے امریکی حکام سے رابطہ کرکے اس بات پر زور دیاکہ جنگی کاروائیوں سے گریز کیا جائے۔ان تمام تر سعی کے نتائج اس وقت ظاہر ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے ساتھ ہی امن کی اپیل بھی کی۔قابلِ غور بات یہ ہیکہ حملے سے فقط 24 گھنٹے قبل پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاک۔بھارت کشیدگی میں اپنا کردار ادا کرنے پر نوبل انعام کےکیے نامزد کیا۔جوکہ ایک سفارتی دباؤ کا مؤثر ترین طریقہ ثابت ہوا۔

پاکستان کا صاف انکار


پاکستان نے امریکی حملے کی شدید مذمت کی اور کسی بھی جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کیا اور مزید کہا کہ پاکستان کی فضائی،بحری،زمینی حدود امریکی حملے میں قطعاً استعمال نہیں ہوئیں۔اور ساتھ ساتھ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ببانگِ دہل صدا بلند کی اور ساتھ ہی ایران سے مکمل اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیا۔


پاکستان اپنی سالمیت و خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہرحدتک جائےگا۔اور تمام تر مسائل کا حل سفارتکاری کے ذریعے چاہتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *