سوراب میں بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے 18 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے میں 3 شہری جاں بحق اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

August 12, 2026

بدخشان میں سونے کی کان کنی پر طالبان قیادت اور کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان شدید اختلافات کے بعد ان کے داماد کو حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔

August 12, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان خطے کے لیے دہشت گردی کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں طالبان کی سرپرستی میں فتنة الخوارج اور القاعدہ سرگرم ہیں۔

August 12, 2026

پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

August 12, 2026

شمالی وزیرستان میں آپریشن 11 گرج کے تحت سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 62 خوارج ہلاک، چار اہم کمانڈر بھی مارے گئے، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد۔

August 12, 2026

بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز نے قلات، خضدار اور سوراب میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

August 12, 2026

سفارتی ناکامی: بھارت کی یورپ میں پاکستان مخالف مہم ناکام

یورپی یونین نے پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے کی بھارتی کوشش مسترد کر دی، جس سے بھارت کی سفارتی ناکامی اور پاکستان کی کامیابی ظاہر ہوئی۔

بھارت کی یورپ میں پاکستان مخالف مہم ناکام

June 11, 2025

سفارتی ناکامی: بھارت کی یورپ میں پاکستان مخالف مہم ناکام
یورپی یونین نے پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دینے کی بھارتی کوشش مسترد کر دی، جس سے نئی دہلی کی عالمی سطح پر تنہائی اور پاکستان کی سفارتی کامیابی سامنے آ گئی۔

یورپ نے بھارت کی سفارتی ناکامی کو بے نقاب کر دیا
بھارت کی جانب سے پاکستان کو “دہشت گردی کا سرپرست” قرار دینے کی جارحانہ مہم کو عالمی سطح پر شدید دھچکا لگا۔ یورپی یونین نے بھارت کا مؤقف اختیار کرنے سے انکار کر دیا، اور واضح کر دیا کہ اس کی بھارت کے ساتھ شراکت داری صرف دوطرفہ معاملات تک محدود ہے۔ یہ بیان بھارت کی اس کوشش کو ناکام بناتا ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان مخالف ایجنڈے کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینا چاہتا تھا۔ یورپ کا یہ مؤقف بھارت کی سفارتی ناکامی کو واضح کرتا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی طرف سے بار بار “ٹیرورسٹان” جیسے توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ اس کے باوجود، یورپی یونین کے نائب صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کا بھارت سے تعلق پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ صرف باہمی تعاون پر مبنی ہے۔ اس مؤقف نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک جائز اور قابلِ احترام عالمی شراکت دار ہے اور بھارت کی الزامات پر مبنی مہم اب قابلِ قبول نہیں۔

پاکستان کی سفارت کاری کی کامیابی
بھارت کی زبانی جارحیت کے برخلاف، پاکستان نے خاموش، باوقار اور مؤثر سفارت کاری کا راستہ اپنایا۔ یورپی ردِعمل صرف غیرجانبداری پر مبنی نہیں بلکہ پاکستان کے تدبر اور سنجیدہ انداز کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت کی سفارتی ناکامی اور پاکستان کی کامیاب حکمت عملی میں نمایاں فرق دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔

اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب بھارت کے اشتعال انگیز بیانیے کی حمایت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ وہ باہمی مفادات پر مبنی متوازن تعلقات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یورپی یونین کا مؤقف پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط جبکہ بھارت کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔

دنیا نفرت کی سیاست کو مسترد کر رہی ہے
یہ پیشرفت محض ایک واقعہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک رجحان کی عکاسی ہے۔ اقوام متحدہ (UN) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جیسے عالمی ادارے پاکستان کو ایک برابر کا شراکت دار تصور کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کا بھارت کی حمایت سے انکار یہ ظاہر کرتا ہے کہ ممالک اب تعمیری مکالمہ چاہتے ہیں نہ کہ الزام تراشی۔

اگر بھارت کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا تھا تو وہ کوشش بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے اور پیغام واضح ہے: پاکستان مؤثر انداز میں مصروفِ عمل ہے، جبکہ بھارت اپنے اتحادیوں کو دور کر رہا ہے۔

آخر میں، یورپی یونین کا مؤقف صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے۔ یہ بھارت کی سفارتی ناکامی کا اعلان اور پاکستان کے لیے ایک اور بین الاقوامی کامیابی ہے۔

https://htnurdu.com/12684/ دیکھیئے بھارتی آرمی چیف کا متنازع مذہبی دورہ: مذہبی عسکریت کا بڑھتا ہوا رجحان

متعلقہ مضامین

سوراب میں بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے 18 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے میں 3 شہری جاں بحق اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

August 12, 2026

بدخشان میں سونے کی کان کنی پر طالبان قیادت اور کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان شدید اختلافات کے بعد ان کے داماد کو حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔

August 12, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان خطے کے لیے دہشت گردی کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں طالبان کی سرپرستی میں فتنة الخوارج اور القاعدہ سرگرم ہیں۔

August 12, 2026

پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

August 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *