اسی تناظر میں نورستان کے ایک ضلعی یا صوبائی گورنر کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے مقامی ذرائع معدنی تنازع اور اندرونی کشمکش سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ طالبان حکام کی جانب سے اس قتل کی تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں، تاہم یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معدنی وسائل پر اختیار کی جنگ کس حد تک شدت اختیار کر چکی ہے۔

January 20, 2026

عالمی جنوب اور برکس کے کئی اہم ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر بھارت اسرائیل اور یو اے ای کے محور کی جانب جھکاؤ دکھاتا ہے تو اس سے عالمی جنوب میں قیادت کے اس کے دعوے کمزور پڑ سکتے ہیں۔

January 20, 2026

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔

January 19, 2026

بھارت نے افغانستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے 18 اقسام کی ادویات فراہم کی ہیں، جو افغان وزارتِ صحت کے معائنہ اور کنٹرول کے بعد ہسپتالوں میں تقسیم کی جائیں گی

January 19, 2026

افغان وزارتِ دفاع کے چیف آف اسٹاف محمد فصیح الدین المعروف فطرت نے دوحہ میں بین الاقوامی بحری دفاعی نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی

January 19, 2026

کابل کے شہر نو کے ایک ہوٹل میں زوردار دھماکہ، نو افراد ہلاک، متعدد زخمی، ہوٹل اور قریبی دکانیں شدید متاثر

January 19, 2026

سِکھ شناخت کے خلاف حملوں میں اضافہ پاک ۔ بھارت تنازعے کے بعد صورتحال مزید خراب

پاک۔بھارت تنازعے کے بعد بھارت میں سِکھ شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں اختلاف رائے کو جھوٹی جاسوسی سے جوڑ کر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاک۔بھارت تنازعے کے بعد بھارت میں سِکھ شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

پاک۔بھارت تنازعے کے بعد بھارت میں سِکھ شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں اختلاف رائے کو جھوٹی جاسوسی سے جوڑ کر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

June 12, 2025

سِکھ شناخت کو نشانہ بنانے کا عمل انڈیا-پاکستان موجودہ تنازعے کے بعد تیز ہو گیا جہاں مودی حکومت اختلاف رائے کو جھوٹے جاسوسی الزامات سے جوڑ کر دبا رہی ہے۔

امرتسر، انڈیا – 2025 کے انڈیا-پاکستان تنازعے کے بعد بھارتی حکومت نے سِکھ برادری کے خلاف اپنی کارروائیوں میں نمایاں شدت لائی ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر ریاست نے سِکھ شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے کمیونٹی رہنماؤں، کارکنان اور عام شہریوں ہراسانی اور گرفتاری کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ عمل صرف سکیورٹی کی آڑ میں نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی ایجنڈے کے تحت جاری ہے جس کا مقصد سِکھوں کی آواز کو دبانا ہے۔

سِکھ آوازوں پر قدغن: خوف کا ماحول
تنازعے کے فوراً بعد بھارتی ایجنسیوں نے پنجاب بھر میں سِکھ تنظیموں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشنز کا آغاز کیا۔ گردواروں اور سِکھوں کے زیر انتظام فلاحی اداروں پر چھاپے مارے گئے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے ان پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات لگائے لیکن بیشتر الزامات میں کوئی قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

عام احتجاج، سوشل میڈیا پر پوسٹ، یا کمیونٹی اجلاس کو غداری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سرکاری میڈیا جسے اکثر گودی میڈیا کہا جاتا ہے نے سِکھوں کو بار بار “خالصتانی” اور “ملک دشمن” قرار دے کر مزید بدنام کیا ہے۔

مقدس مقامات سے نشانے پر

اگرچہ حکومت نے مذہبی مقامات پر سکیورٹی بڑھانے کا دعویٰ کیا، لیکن سِکھوں کے مقدس مقامات درحقیقت نشانہ بن گئے۔ امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل کے بارے میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ وہاں میزائل نظام نصب ہے لیکن کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ درحقیقت ان مقامات کو طاقت کے زور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے برادری میں بے اعتمادی اور بے چینی پیدا ہوئی ہے۔

گرفتاریوں اور نگرانی کے ذریعے خاموشی

پنجاب اور کشمیر جیسے علاقوں میں سِکھ افراد کو بغیر کسی مقدمے یا ثبوت کے جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ پہلگام واقعہ جسے اب بی جے پی کی قیادت میں ایک فالس فلیگ آپریشن سمجھا جا رہا ہے حکومت کو نگرانی اور آپریشن کا مزید راستہ فراہم کرگیا۔

ان واقعات کے بعد وارنٹ کے بغیر چھاپے، ہراسانی اور دھمکیوں کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ وہ غیر سِکھ افراد بھی نشانہ بن رہے ہیں جو سرکاری بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔

صحافی جیوٗتی ملہوترا جو ہندو ہیں، کو صرف اس وجہ سے گرفتار کر لیا گیا کہ انہوں نے پاکستان کو امن پسند انداز میں پیش کیا۔ ان کی گرفتاری نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ مودی کے بھارت میں سچائی کو اختیار کرنا ملک سے غداری تصور کیا جاتا ہے۔

جب شناخت جرم بن جائے

بھارتی حکومت نے نہ صرف جمہوری اصولوں کو پامال کیا ہے بلکہ قوم پرستی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے سِکھ شناخت کو ایک مُجرمانہ لیبل دے دیا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کبھی سِکھوں کو محب وطن اور محافظ سمجھا جاتا تھا اب وہیں وہ دشمن کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔

سِکھ شناخت کو نشانہ بنانے کا یہ رجحان شہری آزادیوں کی تنگ ہوتی فضا اور اختلاف رائے کے لیے بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی علامت ہے۔

دیکھیے: آپریشن بلیو اسٹار: بھارتی ریاست کا سکھ شناخت پر حملہ

متعلقہ مضامین

اسی تناظر میں نورستان کے ایک ضلعی یا صوبائی گورنر کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے مقامی ذرائع معدنی تنازع اور اندرونی کشمکش سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ طالبان حکام کی جانب سے اس قتل کی تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں، تاہم یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معدنی وسائل پر اختیار کی جنگ کس حد تک شدت اختیار کر چکی ہے۔

January 20, 2026

عالمی جنوب اور برکس کے کئی اہم ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر بھارت اسرائیل اور یو اے ای کے محور کی جانب جھکاؤ دکھاتا ہے تو اس سے عالمی جنوب میں قیادت کے اس کے دعوے کمزور پڑ سکتے ہیں۔

January 20, 2026

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔

January 19, 2026

بھارت نے افغانستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے 18 اقسام کی ادویات فراہم کی ہیں، جو افغان وزارتِ صحت کے معائنہ اور کنٹرول کے بعد ہسپتالوں میں تقسیم کی جائیں گی

January 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *