خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی دارالحکومت سے لے کر پشاور کے ایوانوں تک سیاسی زلزلہ برپا ہے۔ تاہم، اس پورے منظر نامے میں سب سے حیران کن اور تضاد سے بھرپور کردار جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سامنے آیا ہے۔ وہ مولانا فضل الرحمان جنہوں نے پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی، جو عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے سب سے بڑے مدعی تھے اور جنہوں نے موجودہ حکمران اتحاد یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا ہر موڑ پر ساتھ دیا آج اچانک اپنے ہی بچھائے ہوئے سیاسی جال اور ماضی کے حلیفوں کے خلاف اصول پرستی کا علم بلند کیے کھڑے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا کی یہ اچانک جاگنے والی مزاحمت واقعی جمہوریت اور آئین کی سربلندی کے لیے ہے؟ یا اس کے پیچھے اقتدار کی وہ پیاس ہے جو 2008 سے لے کر آج تک خیبر پختونخوا کی حکومت سے محروم رہنے کے باعث بجھ نہیں پا رہی؟
مفادات کی سیاست
مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے فیصلے آئینی پاسداری کے بجائے ہمیشہ سیاسی منافع و نقصان کے مرہونِ منت رہے ہیں۔ جب تک تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار کے راستے کھلتے رہے، انہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ہر اقدام میں جمہوریت کی خوشبو آتی رہی۔ لیکن جیسے ہی وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نافذ کر کے اقتدار و اختیارات کے مراکز اپنے قبضے میں لیے، مولانا کی بے چینی کی حدیں پار ہو گئیں۔
جے یو آئی کا اصل درد آئین کی پامالی نہیں، بلکہ صوبائی سیٹ اپ میں اپنے لیے کسی “حصے” کا نہ ہونا ہے۔ جب تک مذاکرات کی ڈور ان کے ہاتھ میں تھی، وہ خود کو مرکزِ ثقل سمجھتے رہے، لیکن گورنر راج کے فیصلے نے انہیں اچانک کھیل سے باہر کر دیا۔ اگر اس نئی انتظامی تبدیلی میں جے یو آئی کو اقتدار کی مال غنیمت میں سے کچھ مل جاتا، تو کیا تب بھی مولانا اسی شد و مد کے ساتھ اپنے سابق اتحادیوں کے خلاف قانونی و پارلیمانی جنگ کا اعلان کرتے؟ تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔
عوامی ہمدردی اور سیاسی بقا کی جنگ
تیرہ سال سے خیبر پختونخوا میں اقتدار سے دور جے یو آئی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ ان کا ووٹ بینک مسلسل سکڑ رہا ہے۔ مولانا کا حالیہ سیاسی ڈرامہ اور اپنے ہی ماضی کے ساتھیوں پر حملہ آور ہونا، دراصل آئندہ انتخابات کے لیے عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا ایک سیاسی پینترا ہے۔
پی ٹی آئی کی معطلی سے پیدا ہونے والے خلا کو جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے لگیں، تو مولانا کو اپنا سیاسی مستقبل مکمل اندھیرے میں دکھائی دینے لگا۔ لہٰذا، انہوں نے مظلومیت کا کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ہر استحصالی نظام کے خلاف ہیں، حالانکہ کل تک وہ اسی نظام کے سب سے بڑے پشت پناہ تھے۔
بے نقاب ہوتا بیانیہ
وفاقی حکومت اور بالخصوص وزیر داخلہ کی جانب سے دیے گئے اشارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مولانا کی تمام تر برہم برہمی کا منبع صرف ایک ہی ہے: حکومت میں ان کا متوقع حصہ نہ ملنا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے گورنر راج کے ذریعے جو سیاسی اختیار حاصل کیا، اس میں جے یو آئی کو محض ایک تماشائی بنا کر رکھ دیا گیا۔
مولانا کی یہ طبعی ناگواری اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سیاست عوامی فلاح، صوبے میں امن و امان کے قیام يا دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے زیادہ اپنے سیاسی حجم کو برقرار رکھنے تک محدود ہے۔
حاصل کلام
مولانا فضل الرحمان کا اپنے ماضی کے اتحادیوں کے خلاف اچانک صف آرا ہونا ان کی سیاسی بصیرت کا نہیں بلکہ ان کی سیاسی تنہائی اور مایوسی کا ثبوت ہے۔ اپنے فائدے کے لیے اتحادی بننا اور مفاد نہ ملنے پر انہی اتحادیوں کو جمہوریت کا قاتل قرار دے دینا یہ وہ روایتی سیاست ہے جس سے اب پاکستان کا عوام خصوصاً خیبر پختونخوا کے لوگ بخوبی واقف ہو چکے ہیں۔
مولانا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آئین اور جمہوریت کا نام صرف اپنے سیاسی مفادات کے تحفط کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ واقعی صوبے کے خیر خواہ ہیں تو انہیں تلخی، بلیک میلنگ اور اقتدار کی رسہ کشی چھوڑ کر شفاف سیاسی پروسیس کا حصہ بننا ہوگا، ورنہ تاریخ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھے گی جس کے لیے اصولوں سے زیادہ اقتدار کی کرسی اہم تھی۔





