حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

April 14, 2026

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دوسری جانب کی پوزیشن واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کا اگلا مرحلہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کے لیے ترجیحی مقام ہوگا۔

April 14, 2026

صدر ٹرمپ کی ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث جی سیون اجلاس سے فوری واپسی

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران اسرائیل تنازع کی شدت کے باعث جی سیون اجلاس سے فوری واپسی۔ امریکہ واپسی پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
ایران اسرائیل تنازع کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرمپ کی جی سیون اجلاس سے فوری واپسی، سیکیورٹی خدشات پر ہنگامی واپسی۔

ٹرمپ کی جی سیون اجلاس سے فوری واپسی

June 17, 2025

امرکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں جاری جی سیون اجلاس ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث اچانک ختم کرکے وطن واپسی اختیار کرلی۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ مجھے جلد اپنے ملک پہنچنا ہے۔

ایران اسرائیل کشیدگی، ایٹمی ہتھیار کی اجازت؟

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مشرقِ وسطٰی میں فوج کی تعیناتی

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتہ نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں احتیاطاً اضافی فوجی دستے بھیجے جارہے ہیں۔ وزیرِ دفاع نے مزید واضح کیا کہ یہ اقدام فقط دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اسکا مقصد اسرائیلی حمایت و تعاون ہرگز نہ تھا۔

قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جی سیون اجلاس سے امریکہ واپسی پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ یوں صدر ٹرمپ کی اچانک روانگی کی وجہ سے یوکرینی صدر ولود یمیر زیلنکسی اور میسکو کی صدر سے طے شدہ ملاقاتیں منسوخ ہوگئیں۔

ایران اسرائیل تنازع میں شدت

اسرائیلی فضائی حملوں نے تہران میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران بھر میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔جبکہ ایرانی وزیرِ صحت کے بیان کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم224 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

جوابی کارروائی

جواباً ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے جس کے بعد تل ابیب میں سائرن بجنے لگے ساتھ ساتھ زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اسرائیلی حکّام نے تصدیق کی ہیکہ حالیہ حملوں میں کم از کم 24 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان تمام حالات نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔

سفارتی تقسیم

ماہرین کے مطابق جی سیون اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مشترکہ اعلامیہ کو مسترد کردیا جس میں ایران و اسرائیل سے باہم تحمّل و بُردباری کی اپیل کی گئی تھی۔اس فعل نے عالمی قیادت میں موجود تقسیم کو مزید واضح کردیا۔ان تمام تر وجوہ کے باوجود ٹرمپ نے برطانوی وزیرِ اعظم سرکئیر اسٹارمر کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ کیا۔کینیڈا کے وزیر اعظم کارنی سے تجارتی تنازعات کے حل پر بھی گفت و شنید ہوئی۔ فرانسیسی صدر نے کہا “اگر امریکہ جنگ بندی میں اپنا کردار ادا کرے تو یہ بہت خوش آئندہ ہوگا اور اسکے مثبت نتائج ظاہر ہونگے۔”

دیکھیئے: ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران جھوٹے پراپیگنڈے سے پاکستان کو جنگ میں الجھانے کی کوشش

متعلقہ مضامین

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *