پاکستان کی ممتاز علمی و سیاسی شخصیت، سابقہ ممبر خیبر پختونخوا اسمبلی اور جید عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی منگل کی صبح ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں ایک منظم قاتلانہ حملے میں شہید کر دیے گئے۔ یہ دلخراش واقعہ صبح سات بج کر تیس منٹ پر اس وقت پیش آیا جب مولانا حسبِ معمول دورہ حدیث کا درس دینے کے لیے جامعہ دارالعلوم اتمانزئی جا رہے تھے۔
حملے کی تفصیلات
پولیس ذرائع کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں نے مولانا کی گاڑی پر اس وقت اندھادھند فائرنگ کی جب وہ مدرسے کے قریب پہنچے۔ حملے کے نتیجے میں مولانا ادریس موقع پر ہی شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال منتقل کرتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے دو محافظ بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ شہادت کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں عقیدت مند ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ پہنچ گئے، جہاں فضا سوگوار رہی اور مشتعل عوام نے تنگی روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج کیا۔
المرصاد کی مہم اور مولانا کی شہادت
شیخ الحدیث مولانا ادریس ترنگزئی کی شہادت کو محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ خطبہ جمعہ میں مولانا نے ریاستِ پاکستان کی پالیسیوں اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خطے میں قیامِ امن کے لیے کیے گئے اقدامات کی کھل کر تائید کی تھی۔ اس بیان کے فوراً بعد سرحد پار سے افغان انٹیلی جنس کے زیرِ اثر پراپیگنڈا سیل المرصاد اور افغان طالبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مولانا کے خلاف ایک زہریلی مہم کا آغاز کر دیا تھا۔
المرصاد نے پشتو زبان میں طویل پوسٹیں جاری کیں جن میں مولانا کو ‘ریاستی آلہ کار’ قرار دیتے ہوئے ان کی علمی تذلیل کی گئی اور انہیں براہِ راست جان کی دھمکیاں دی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ المرصاد کی ان دھمکیوں پر آج اس بزدلانہ حملے کی صورت میں عمل درآمد کر دیا گیا۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ قیادت کی بڑی تعداد مولانا کی شاگرد رہی ہے، اس کے باوجود محض سیاسی اختلاف اور ریاستِ پاکستان کی حمایت پر انہیں نشانہ بنانا ایک بڑے نظریاتی تصادم کی نشاندہی کرتا ہے۔
علمی و تدریسی خدمات
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس 1961ء میں ترنگزئی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا حکیم عبدالحق اور دادا مفتی شہزادہ بلند پایہ عالم تھے اور آپ زینت المحدثین مولانا حسن جان شہید رح کے داماد تھے ۔ آپ نے گزشتہ 30 سالوں سے مسلسل بخاری شریف اور ترمذی شریف کا درس دیا۔ آپ بیک وقت دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور خطے کی عظیم قدیمی دینی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز تھے، جہاں تقریباً دوہزار سے زائد طلباء براہِ راست آپ کے حلقہ درس میں شریک ہوتے تھے۔ جبکہ جامعہ نعمانیہ میں آپ کی دورہ حدیث کی کلاس میں 900 سے زائد طلباء زیرِ تعلیم تھے۔
سیاسی و مصالحتی کردار
شیخ الحدیث مولانا ادریس سابق رکنِ صوبائی اسمبلی رہے۔ آپ نے 2004 میں خیبر پختونخوا اسمبلی سے شریعت بل منظور کرانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ مولانا سمیع الحق شہید کے بعد آپ کو پاک افغان مصالحت میں سب سے معتبر نام سمجھا جاتا تھا۔ 2024 میں آپ نے مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا جہاں آپ کی سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اور افغان وزیرِ اعظم سمیت مرکزی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن کا مقصد ٹی ٹی پی کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا تھا۔


دو سال قبل مولانا فضل الرحمان کی معیت میں افغانستان سفر کے مناظر
مولانا فضل الرحمان کی مذمت
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا شہید نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کی قیمت چکائی ہے۔ انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ ایک سفید ریش عالمِ دین پر حملہ دراصل قرآن و سنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ ہے، کیونکہ علمائے کرام ملک کے بے لوث نظریاتی محافظ ہیں لیکن افسوس کہ ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے شہید کو ایک بلند پایہ عالم، مدبر سیاستدان اور اپنا مخلص و باوفا دوست قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے، کیونکہ بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور دہشت گردی حکومت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
علماء کے لیے باعث تشویش
خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کی جانب سے جید علمائے کرام کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا سلسلہ انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ ابھی دو ہفتہ قبل ہی ایک سلفی عالمِ دین شیخ یوسف آفریدی کو بزدلانہ حملے میں شہید کیا گیا تھا اور اب شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کو نشانہ بنا کر علمی خلا پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی ہے۔
یہ حملہ آور گروہ، جو اپنے سیاسی و نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر اپنے ہی عظیم اساتذہ اور روحانی پیشواؤں کی تذلیل اور انہیں شہید کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا، دراصل ان معتبر شخصیات کو خاموش کرانا چاہتا ہے جو ریاستِ پاکستان کی سلامتی اور امنِ عامہ کے بیانیے کی حمایت کرتی ہیں۔ مولانا ادریس جیسے جید عالمِ دین کی شہادت، جنہیں سرحد پار سے المرصاد جیسے دہشت گرد بیانیے کے حامل پلیٹ فارمز سے براہِ راست جان لیوا دھمکیاں دی جا رہی تھیں، اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ عناصر علم اور امن کے ہر اس مرکز کو مٹانے کے درپے ہیں جو ان کے شرپسندانہ ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اعلانِ جنازہ
مولانا ادریس کی شہادت سے پاکستان ایک معتدل، محبِ وطن اور جید علمی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کے خلاف چلنے والی حالیہ مہم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شہادت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی نمازِ جنازہ آج 5 مئی بروز منگل شام 5:30 بجے ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی، ضلع چارسدہ میں ادا کی جائے گی۔
دیکھیے: چارسدہ: ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید