امریکی کانگریس کے رکن رو کھنہ کی جانب سے پاکستان میں مبینہ طور پر صحافیوں اور جمہوری آوازوں کو دبانے پر تنقید نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں پاکستان میں “صحافیوں کو نشانہ بنانے” اور “جمہوری اختلاف رائے کو کچلنے” کی مذمت کی۔
Deeply concerned that Pakistan's military regime is attempting to silence independent journalism and pro-democracy activists online.
— Ro Khanna (@RoKhanna) July 9, 2025
I hope our friends in the US tech community will stand up for freedom of speech and the press.
تاہم ان کے بیان پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے تجزیہ کاروں اور مبصرین نے شدید ردعمل دیا ہے، جس میں انہیں “دوہرا معیار اپنانے” کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
مبصرین نے فوری طور پر رو کھنہ کے بیان میں تضادات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے امریکی حکومت کے ان اقدامات کا حوالہ دیا جن کے تحت ایڈورڈ اسنوڈن اور جولیان اسانج جیسے کرداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حالیہ دنوں میں امریکی جامعات میں غزہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء پر کریک ڈاؤن کو بھی آزادی اظہار رائے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
ایک سینئر پاکستانی صحافی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
“پہلے اپنے گھر کی خبر لیں، پھر دوسروں کو درس دیں۔ امریکہ میں پرامن مظاہرین اور صحافیوں کی گرفتاریاں کسی اخلاقی برتری کا ثبوت نہیں دیتیں۔”
ڈیجیٹل سنسرشپ اور دوہرا معیار
تجزیہ کاروں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ امریکہ میں ڈیجیٹل سنسرشپ، سوشل میڈیا پر ڈی پلیٹ فارمنگ اور حکومت مخالف آوازوں کی بندش جیسے اقدامات بھی عام ہو چکے ہیں۔ ایک مبصر نے کہا:
“تنقیدی آوازوں کو دبانا صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ واشنگٹن میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، صرف الفاظ بدل گئے ہیں۔”
پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بھی رو کھنہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینے” کا مشورہ دیا۔
تاحال حکومتِ پاکستان کی جانب سے رو کھنہ کے بیان پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، حکومتی ذرائع نے نجی طور پر اس بیان پر ناپسندیدگی اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
سیاسی کشیدگی، میڈیا پر دباؤ اور اظہار رائے کی حدود جیسے چیلنجز کے دوران ایسے یکطرفہ بیانات پاکستان کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے مزید بدگمانی اور غیر ضروری مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق،
“جمہوریت کے نام پر اگر مغرب سنجیدہ ہے، تو پہلے اسے اپنے طرز عمل میں شفافیت اور مستقل مزاجی دکھانی ہوگی۔ بصورت دیگر، ایسے بیانات صرف نقصان کا باعث بنیں گے۔”