چارسدہ میں مولانا محمد ادریس کا بہیمانہ قتل آئی ایس کے پی کی جانب سے ایک بزدلانہ اور سوچی سمجھی دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ اس حملے کا بنیادی ہدف ان با اثر اور اعتدال پسند مذہبی رہنماؤں کی آواز کو خاموش کرنا ہے جو پاکستان میں استحکام اور ریاستی اداروں کی تائید کرتے ہیں۔ مقتول نے حال ہی میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے اقدامات اور کاوشوں کو سراہا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ریاست کے حامی اور اعتدال پسند حلقوں سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔ آئی ایس کے پی ایسے تمام حلقوں کو نشانہ بنانے کے درپے ہے جو ملک میں امن، اتحاد اور ریاست کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
دہشت گرد تنظیم کا یہ ایک پرانا طریقہ کار ہے کہ وہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے اور اعتدال پسندانہ اسلامی بیانیے کو کمزور کرنے کے لیے مذہبی اسکالرز اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بناتی ہے۔ تاہم، پاکستان کے مسلسل اور کامیاب انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز نے اس تنظیم کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے۔ اپنی اسی کمزور اور شکست خوردہ پوزیشن کی وجہ سے آئی ایس کے پی اب ٹارگٹ کلنگ اور ہائی پروفائل قتل کی وارداتوں کا سہارا لے رہی ہے تاکہ اپنی موجودگی کا احساس دلا سکے اور نفسیاتی دباؤ پیدا کر سکے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس سمیت کئی مستند بین الاقوامی جائزے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آئی ایس کے پی افغانستان میں موجود ہے اور ہمسایہ ممالک کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے۔ یہ گروہ افغان سرزمین کو اپنے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں افغان حکام پر واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود اس خطرے کا تدارک کریں اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کریں۔ افغان حکومت کی اس حوالے سے غفلت نہ صرف سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دے گی بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام اور امن کو بھی شدید خطرے سے دوچار کرے گی۔ پاکستان کا عزم ہے کہ وہ ہر سطح پر اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا، لیکن اس کے لیے خطے کے تمام ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
دیکھئیے:چارسدہ: ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید