پاکستان کے مسلسل اور کامیاب انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز نے اس تنظیم کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے۔ اپنی اسی کمزور اور شکست خوردہ پوزیشن کی وجہ سے آئی ایس کے پی اب ٹارگٹ کلنگ اور ہائی پروفائل قتل کی وارداتوں کا سہارا لے رہی ہے تاکہ اپنی موجودگی کا احساس دلا سکے اور نفسیاتی دباؤ پیدا کر سکے۔

May 5, 2026

پاکستان کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہر محاذ پر جرات مندانہ اور باوقار مؤقف اختیار کیا ہے۔ افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کا بغیر کسی ابہام کے منہ توڑ جواب دیا گیا، جس نے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

May 5, 2026

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بدھ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بھگونت مان کے دورہ جالندھر کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

May 5, 2026

اب اس معاہدے میں تاجکستان اور ازبکستان کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

May 5, 2026

باغی کمانڈر نے اپنے خطاب میں رژیم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرزمین کو تباہ اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے بدخشانیوں کے گھروں میں فوجیں داخل کی جا رہی ہیں

May 5, 2026

یہ نغمہ اس عزم کو دہراتا ہے کہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان “بنیانٌ مرصوص” کی طرح اپنے شہداء کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

May 5, 2026

ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ کے دوران 5 طیاروں کے مار گرائے جانے کی تصدیق کر دی

حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے بھارت کے رافیل سمیت 5 طیارے مار گرائے ہیں جس کی شروع میں بھارت نے تردید کی تاہم بعد میں چند بھارتی جرنیلوں نے دبے لفظوں میں اس دعوے کی تائید کی تھی۔ اب ٹرمپ کے اس بیان نے پاکستانی دعوے پر مہر ثبت کر دی ہے۔
پاک بھارت جنگ اور 5 طیارے

July 19, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو امریکا نے تجارتی دباؤ کے ذریعے روکا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالات شدید کشیدہ ہو چکے تھے اور5 لڑاکا طیارے تباہ کیے جا چکے تھے۔

ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا: “ہم نے کئی جنگیں روکیں، اور یہ سنجیدہ جنگیں تھیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑائی جاری تھی۔ طیارے مار گرائے جا رہے تھے، میرا خیال ہے کہ پانچ لڑاکا طیارے تباہ کیے گئے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ “یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہی تھیں، اور صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی تھی۔ لیکن ہم نے اسے حل کیا — تجارت کے ذریعے۔ ہم نے کہا کہ اگر تم لوگ جنگ چاہتے ہو، تو تجارت بھول جاؤ۔”

ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے خلاف امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “آپ نے حال ہی میں دیکھا، جب ہم نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا۔” تاہم ان کے اس دعوے پر کئی بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے سوالات اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کو امریکا نے پس پردہ سفارت کاری اور اقتصادی دباؤ سے قابو میں رکھا، تاکہ خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ نہ بڑھے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کرتے رہے ہیں تاہم بھارت نے اس مؤقف کو مسترد کیا تھا۔ پاکستان نے اس وقت امریکی کردار کو سراہا تھا۔

حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے بھارت کے رافیل سمیت 5 طیارے مار گرائے ہیں جس کی شروع میں بھارت نے تردید کی تاہم بعد میں چند بھارتی جرنیلوں نے دبے لفظوں میں اس دعوے کی تائید کی تھی۔ اب ٹرمپ کے اس بیان نے پاکستانی دعوے پر مہر ثبت کر دی ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان کے مسلسل اور کامیاب انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز نے اس تنظیم کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے۔ اپنی اسی کمزور اور شکست خوردہ پوزیشن کی وجہ سے آئی ایس کے پی اب ٹارگٹ کلنگ اور ہائی پروفائل قتل کی وارداتوں کا سہارا لے رہی ہے تاکہ اپنی موجودگی کا احساس دلا سکے اور نفسیاتی دباؤ پیدا کر سکے۔

May 5, 2026

پاکستان کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہر محاذ پر جرات مندانہ اور باوقار مؤقف اختیار کیا ہے۔ افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کا بغیر کسی ابہام کے منہ توڑ جواب دیا گیا، جس نے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

May 5, 2026

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بدھ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بھگونت مان کے دورہ جالندھر کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

May 5, 2026

اب اس معاہدے میں تاجکستان اور ازبکستان کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

May 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *