افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے سیاسی دعوؤں، تنظیمی صلاحیت اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کردیا۔

October 6, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کے بعد مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے دروازے بات چیت کیلئے کھلے ہیں۔

October 6, 2026

پنجشیر میں القاعدہ جنگجوؤں کی خفیہ سرگرمیوں کے انکشاف نے خطے سے متعلق پاکستان کا مؤقف ایک بار پھر سچ ثابت کر دیا۔

October 6, 2026

کسی کو خیبر پختونخواہ میں حملوں کی اجازت نہیں دیں گے؛ علی امین گنڈاپور

ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کو اب ختم ہونا چاہیے؛ علی امین گنڈاپور
ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کو اب ختم ہونا چاہیے؛ علی امین گنڈاپور

خیبرپختونخوا میں کسی کو آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ آپریشن سے صرف ہمارا نقصان ہوا ہے۔ 15 روزمیں گرینڈ جرگہ بلائیں گے

July 25, 2025

وزیر اعلی خیبر پختونخواہ علی امین خان گنڈاپور نے پشاور میں آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت کی اور تمام جماعتوں کے نمائندوں سے خطاب کیا۔

وزیرِ اعلی کا کہنا تھا اب ضلعی سطح پر سیاسی جماعتوں کے قائدین و علاقائی عمائدین سے ملاقاتیں کرتے ہوئے پشاور میں ایک گرینڈ امن جرگہ منعقد کیا جائے گا۔

امن بحال کرنے کے لیے ہر ایک نے کوشش کی ان تجربات میں ہزاروں لوگ جان سے گئے اور بڑا معاشی نقصان ہوا۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا ماضی میں ڈرون حملوں سے شہریوں کو شدید کو نقصان اٹھانا پڑا تھا اس لئے ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دینگے۔ مزید یہ کہ سابقہ آپریشن کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔ نہ تو امن و امان بحال ہوا اورر نہ ہی صوبہ استحکام میں استحکام آسکا۔


وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور ختم کیا جائے اور انکے خلاف کاروائی کی جائے اور اگر صوبے میں کہیں انہیں دیکھ لیا گیا تو سخت کاروائی کی جائے گی۔


اہم اعلان کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا جلد از جلد گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا۔

انکا کہنا تھا بارڈر کے قریب تمام علاقوں میں امن و امان قائم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے جو اپنی ذمہ ادا کرنے میں ناکام ہے اور ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا نہ کرکے عوام میں شدید مایوسی پھیلائی ہے۔

پریس کانفرنس میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا وفاق نے قبائلی علاقوں پر جو ٹیکس عائد کیا ہے اس کو مسترد کرتے ہیں۔ ایک طرف تو ٹیکس لگایا جارہا جبکہ دوسری وفاقی حکومت کا پاک۔ افغان بارڈ پر امن قائم نہ کرنے کی وجہ سے ہماری تجارت بھی شدید متاثر ہورہی ہے لہذا وفاق ان امور پر سنجیدگی سے سوچے۔

وفاقی حکومت کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا افغان گرینڈ جرگہ میں وفاق کے وفد پر ہمارے تحفظات ہیں۔ اسحاق ڈار اور محسن نقوی نہ تو ہمارے صوبے کی بات نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی نمائندگی کرسکتے ہیں۔


وفاق کو صوبائی حکومت کی بغیر اجازت کے ایسے وفد بھیجنا آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر علی امین گنڈاپور نے گریند جرگے کا اعلان کرتے ہوئے کہا جرگہ پشاور مین منعقد ہوگا جس میں تمام سابق و اہم سمیت قبائلی عمائدین کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

دیکھیں: افغان حکومت کا ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور مختلف شہروں میں بسانے کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے سیاسی دعوؤں، تنظیمی صلاحیت اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کردیا۔

October 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *