پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔

May 7, 2026

ٹرمپ نے اپنی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

May 7, 2026

یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردی اور تشدد کا ایک ایسا نیٹ ورک پروان چڑھ چکا ہے جس کے لیے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

May 7, 2026

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔

May 7, 2026

معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق غازی نے بتایا کہ بھارت کے تباہ شدہ طیاروں میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل ہیں۔

May 7, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی کا نام نہاد بیانیہ اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو کر دفن ہو چکا ہے۔

May 7, 2026

ہرات – کابل ہائی وے پر خوفناک حادثہ، 81 افراد جاں بحق ہو گئے

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حادثات کو روکنے کے لیے سخت ٹریفک قوانین، ڈرائیوروں کی تربیت اور گاڑیوں کی تکنیکی جانچ ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر ایسے سانحات انسانی جانوں کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے رہیں گے۔
ہرات حادثہ

تاہم بعض غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق بس میں موجود مسافر حال ہی میں افغانستان واپس آنے والے مہاجرین تھے

August 20, 2025

ہرات ٹریفک حادثہ میں کم از کم 81 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ حادثہ ہرات کی شاہراہ حلقوی پر پیش آیا۔

طالبان کی ہرات پولیس کمانڈ کے مطابق ایک بس تیز رفتاری اور ڈرائیور کی غفلت کے باعث قابو سے باہر ہوگئی۔ بعد ازاں یہ بس مزدا گاڑی سے زور دار طریقے سے ٹکرائی۔

تصادم کے فوراً بعد مسافربس میں آگ بھڑک اٹھی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں شعلے اور دھواں واضح دیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی کوششیں کیں۔

ابھی تک زخمیوں کی درست تعداد سامنے نہیں آئی۔ تاہم بعض غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق بس میں موجود مسافر حال ہی میں افغانستان واپس آنے والے مہاجرین تھے۔ اس بات کی تاحال طالبان حکام نے باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

یہ المناک واقعہ ایک بار پھر افغانستان میں خطرناک سڑکوں، ناقص انفراسٹرکچر اور ڈرائیوروں کی لاپرواہی پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہرات سمیت کئی صوبوں میں ہائی ویز پر گاڑیاں اکثر اوقات تیز رفتاری سے چلتی ہیں، جو حادثات کا باعث بنتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حادثات کو روکنے کے لیے سخت ٹریفک قوانین، ڈرائیوروں کی تربیت اور گاڑیوں کی تکنیکی جانچ ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر ایسے سانحات انسانی جانوں کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے رہیں گے۔

دیکھیں: ایرانی حکام کی جانب سے افغان مہاجرین کی وسیع پیمانے پر بے دخلی

متعلقہ مضامین

پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔

May 7, 2026

ٹرمپ نے اپنی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

May 7, 2026

یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردی اور تشدد کا ایک ایسا نیٹ ورک پروان چڑھ چکا ہے جس کے لیے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

May 7, 2026

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔

May 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *