مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

امارت اسلامیہ کا روس، چین، پاکستان اور ایران کے افغانستان سے متعلق بیان کا خیر مقدم

حمد اللہ فطرت نے واضح کیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر مثبت تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔
امارت اسلامیہ کا روس، چین، پاکستان اور ایران کی افغانستان سے متعلق بیان کا خیر مقدم

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ علاقائی ممالک کی جانب سے افغانستان کے استحکام کی حمایت، امارت اسلامیہ کے لیے ایک اہم موقع ہے جس کے ذریعے وہ اپنے سیاسی اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے۔

September 28, 2025

امارت اسلامیہ افغانستان نے روس، چین، ایران اور پاکستان کے اس موقف کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ان ممالک نے افغانستان میں کسی بھی بیرونی فوجی اڈے کے قیام کی مخالفت کی ہے۔

امارت اسلامیہ افغانستان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور نہ ہی ملک میں کسی مسلح گروہ کو سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ فطرت نے اس خیال کو بے بنیاد قرار دیا کہ افغانستان سے دوسرے ممالک کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ ان کے بقول امارت اسلامیہ افغانستان بدعنوانی، منشیات اور ہر قسم کی ناپسندیدہ امور کے خلاف سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس عمل کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔


حمد اللہ فطرت نے واضح کیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر مثبت تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقی اور حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر ہے کہ افغانستان میں موجود سکیورٹی، استحکام اور ترقی کے تناظر میں علاقائی اور عالمی ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کابل کی پالیسی باہمی اعتماد، مثبت روابط اور دوستانہ تعلقات کے فروغ پر مبنی ہے اور افغانستان سے متعلق غلط خدشات یا بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔


سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ علاقائی ممالک کی جانب سے افغانستان کے استحکام کی حمایت، امارت اسلامیہ کے لیے ایک اہم موقع ہے جس کے ذریعے وہ اپنے سیاسی اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے۔ ان کے بقول کابل کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے خدشات کا مثبت جواب دینا اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔


یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چین، روس، ایران اور پاکستان نے حالیہ دنوں ایک چار فریقی اجلاس میں افغانستان کے بارے میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے علاقائی ڈھانچوں، خصوصاً “ماسکو فارمیٹ” اور “شنگھائی تعاون تنظیم” کا کردار اہم ثابت ہوسکتا ہے۔


یوں افغانستان کے بارے میں روس، چین، ایران اور پاکستان کا مشترکہ مؤقف نہ صرف امارت اسلامی کے لیے ایک سفارتی سہارا بن سکتا ہے بلکہ یہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے نئے امکانات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

دیکھیں: لکی مروت کے وفد کی افغان سفیر سے ملاقات، اغوا شدہ مزدوروں کی رہائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *