خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں افغان شہری سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک اور بھاری اسلحہ برآمد ہوا۔

August 12, 2026

بنوں میں ہلاک دہشت گرد افغان شہری نکلا، قبضے سے کابل انتظامیہ کا سرکاری اسلحہ لائسنس برآمد۔

August 12, 2026

پاکستان نے مالی شفافیت سے متعلق امریکی رپورٹ اور بھارتی میڈیا کے منفی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

August 12, 2026

بدخشاں میں طالبان فورسز اور جمعہ خان فاتح کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران متعدد طالبان ہلاک و زخمی ہو گئے، جبکہ صوبائی گورنر ہاؤس کو بھی راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

August 12, 2026

ہرات میں طالبان نے یوناما کے دو افغان ملازمین کو حراست میں لے کر اقوام متحدہ کو ان تک رسائی سے روک دیا ہے۔

August 12, 2026

ایرانی صدر پزشکیان کی محسن نقوی سے ملاقات، پاکستان ایران تعلقات کو علاقائی سکیورٹی کے لیے اہم قرار دیدیا۔

August 12, 2026

خیبرپختونخوا کے پرانے افغان پناہ گزین کیمپس بند، اراضی صوبائی حکومت کے حوالے

وفاقی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی ڈی نوٹیفکیشن کا مقصد صرف سکیورٹی نہیں بلکہ زمین کا بہتر انتظام، مقامی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ بھی ہے۔
خیبرپختونخوا کے پرانے افغان پناہ گزین کیمپس بند، اراضی صوبائی حکومت کے حوالے

حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ملک کی سرحدی سالمیت اور عوامی حفاظت اولین ترجیح ہے اور جو بھی اقدامات کیے جائیں گے وہ قومی مفاد اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوں گے۔

October 14, 2025

حکومتِ پاکستان نے خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے قائم متعدد افغان پناہ گزین کیمپس کو فوری طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وفاقی سطح پر جاری کردہ حکم کے مطابق ان دس کیمپس کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا ہے اور متعلقہ اراضی و اثاثے صوبائی حکومت کو منتقل کر دیے جائیں گے تاکہ انہیں قانونی اور تعمیری استعمال میں لایا جا سکے۔

سرکاری ذرائع اور مقامی میڈیا کے مطابق متاثرہ اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، مانسہرہ، چارسدہ اور ملاکنڈ شامل ہیں۔ صوبے بھر میں موجود افغان مہاجرین کو فوری وطن واپسی یا متعلقہ حکام کے زیرِ انتظام واضع کردہ متبادل کا پابند کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی اراضی قبضے میں لینے اور ان پر حکومتی منصوبہ جات یا عوامی استعمال کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اس اقدام کا پس منظر سکیورٹی خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں کہا تھا کہ افغان عبوری حکومت (طالبان) نے اپنے سامنے بعض دہشت گرد عناصر کی موجودگی کا اعتراف کر لیا ہے اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کبھی ان کے “ساتھی” رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے انتباہ کیا کہ “جو ہمارے پاکستانیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے گا ہم اسے نہیں چھوڑیں گے” اور کہا کہ “اب ٹَٹ فار ٹَٹ ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ چھپ کر بیٹھنے والے عناصر کا پتا چلانا اب مشکل کام نہیں رہا کیونکہ جدید انٹیلی جنس اور مواصلات کے ذریعے ان کے ٹھکانے معلوم ہو جاتے ہیں۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اب اس بات کی گنجائش نہیں کہ ہمارے مقامی شہری اور فورسز شہادت کا شکار ہوں اور حکومت خاموش رہے؛ جب بھی جارحیت ہوگی، پاکستان کی طرف سے بھرپور اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ اُن کے مطابق ریاست کے پاس “تمام معلومات” موجود ہیں اور مستقبل میں اس نوعیت کے حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔

وفاقی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی ڈی نوٹیفکیشن کا مقصد صرف سکیورٹی نہیں بلکہ زمین کا بہتر انتظام، مقامی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ بھی ہے۔ صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان اراضی کا انوینٹری بنائے، مفاد عامہ کے منصوبے کا خاکہ تیار کرے اور وہاں موجود افراد کے حوالے سے انسانی نقطہ نظر سے ری لوکیشن یا ری پیٹری ایشن کے جامع پروگرام نافذ کرے۔

نوٹیفکیشن کے بعد مقامی سطح پر ردِعمل مختلف رہا؛ بعض حلقوں نے سکیورٹی نقطۂ نظر سے فیصلے کا خیرمقدم کیا جب کہ انسانی حقوق کی کارکنوں اور سماجی نمائندوں نے کہا ہے کہ مہاجرین کے حقوق، تحفظ اور ری ہاؤسنگ کے مناسب انتظامات کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ کوئی بے گھر یا لاواسطہ متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب پشاور میں جاری سیاسی صورتحال کا حوالہ بھی سامنے آیا ہے اور ذرائع نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے معاملے پر فیصلہ محفوظ ہے اور صوبائی قیادت جلد اس پر حتمی اعلان کرے گی۔ وفاقی اور صوبائی حکام نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی، انتظامی اور سیاسی امور کو ہم آہنگ انداز میں نمٹایا جائے گا۔

حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ملک کی سرحدی سالمیت اور عوامی حفاظت اولین ترجیح ہے اور جو بھی اقدامات کیے جائیں گے وہ قومی مفاد اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوں گے۔

دیکھیں: اورکزئی میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 30 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں افغان شہری سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک اور بھاری اسلحہ برآمد ہوا۔

August 12, 2026

بنوں میں ہلاک دہشت گرد افغان شہری نکلا، قبضے سے کابل انتظامیہ کا سرکاری اسلحہ لائسنس برآمد۔

August 12, 2026

پاکستان نے مالی شفافیت سے متعلق امریکی رپورٹ اور بھارتی میڈیا کے منفی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

August 12, 2026

بدخشاں میں طالبان فورسز اور جمعہ خان فاتح کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران متعدد طالبان ہلاک و زخمی ہو گئے، جبکہ صوبائی گورنر ہاؤس کو بھی راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

August 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *