افغانستان کے پاکستان سے متصل سرحدی ضلع برمل میں منگل کے روز ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک گاڑی اور ایک قریبی حجرہ تباہ ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم دھماکے کی نوعیت اور ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے باقاعدہ سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
برمل میں دھماکے کے بعد افغان حکومت کے ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ رات صوبہ خوست، پکتیکا اور کنڑ کے مختلف علاقوں میں ڈرون حملے کیے ہیں۔ تاہم افغان ترجمان اپنے اس دعوے پر کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔ مقامی ذرائع کے مطابق رات گئے برمل، مغلائی اور اسد آباد میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں گئی جن کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ضلع برمل ماضی میں دہشت گرد گروہ جماعت الاحرار کا مرکز رہا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 2022 میں اس گروہ کے رہنما عمر خالد خراسانی بھی اسی علاقے میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ جماعت الاحرار نے گزشتہ روز پشاور دھامکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں تین ایف سی کے اہلکار شہید ہوئے تھے۔
دیکھیں: افغان میڈیا کی آزادی خطرے میں، افغان حکومت کی ناکامیوں پر تنقید