وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسلام آباد کے سیکٹر جی۔11 میں ہونے والے خودکش حملے کے مجرم اور ان کے ساتھیوں کی شناخت کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل اسلام آباد کے سیکٹر جی11 میں ہونے والے خودکش حملے میں ملوث افراد کی شناخت سامنے آگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بمبار قاری عثمان (عرف زبیر) تھا جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع اچین کا رہائشی تھا۔ اسی طرح حملے میں ملوث چار سہولت کاروں کے نام ساجد اللہ (عرف شینا)، کامران خان، محمد زالی اور شاہ منیر کے نام بتائے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق ساجد اللہ اور محمد زالی نے تقریباً چھ ماہ قبل افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر داد اللہ اور ابو حمزہ سے ملاقاتیں کی تھیں۔ یہ ملاقاتیں کنڑ اور کابل میں ہوئی تھیں۔



حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مذکورہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی تھی اور تمام ہدایات بھی وہیں سے موصول ہوئی تھیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دہشت گرد گروہ حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے بیرون ممالک سے بالخصوص افغانستان سے ہدایات حاصل کر رہے ہیں۔
اعترافی بیان
اسی طرح گرفتار شدہ دہشت گرد ساجد اللہ شینا نے اعترافی بیان میں کہا کہ ٹی ٹی پی کمانڈر نے مجھ سے رابطہ کیا اور افغانستان آنے کا کہا نیز قاری عثمان نے بھی مجھ سے رابطہ کیا۔ ساجد اللہ شینا کا کہنا ہے کہ جلال آباد سے کابل پہنچنے پر مجھے اسلام آباد حملے کی ہر طرح سے رہنمائی دی گئی تھی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پروپیگنڈون سے باخبر رہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
دیکھیں: اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے 7 سہولت کار گرفتار