امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر ہونے والے مہلک حملے میں ایک خاتون فوجی اہلکار کی ہلاکت اور دوسرے کے شدید زخمی ہونے پر پاکستان نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ 20 سالہ سارہ بیکسٹرم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں، جبکہ ان کے ساتھی 24 سالہ اینڈریو وولف زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ فائرنگ کا یہ واقعہ بدھ کی شب اس وقت پیش آیا جب ایک افغان نژاد حملہ آور نے اچانک گھات لگا کر دونوں اہلکاروں پر گولیاں برسا دیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ واقعہ دہشت گردی کے شبہے کے تحت تفتیش کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ نے سابق صدر بائیڈن کے دور میں امیگریشن اور اسائلم اسکروٹنگ کے عمل میں مبینہ خامیوں کو اس حملے سے جوڑتے ہوئے پالیسی ریویو کا اعلان بھی کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے بغیر کسی اشتعال کے .357 اسمتھ اینڈ ویسن ریوالور سے فائرنگ کی۔ عدالتِ عظمیٰ کے ضلعِ کولمبیا کے لیے امریکی اٹارنی جینین پیرو کے مطابق تحقیقات کے لیے مختلف مقامات پر سرچ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابلِ قبول نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان امریکی حکومت، عوام اور متاثرہ اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہے اور زخمی فوجی کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہے۔
🔊PR No.3️⃣5️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 28, 2025
US Shooting Incident Involving Afghan National https://t.co/Ms9GuXOzVe
🔗⬇️ pic.twitter.com/bqmkEmEaho
اسلام آباد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں پاکستان ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی تعاون جاری رکھے گا۔