پاکستان نے افغان حکومت سے اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ “ہمیں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں، اور نہ ہی خون اور دہشت گردی کے ذریعے تجارتی روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔”

November 29, 2025

کمپنی کے مطابق حال ہی میں ایک اے320 طیارے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے اس خطرے کو بے نقاب کیا کہ شدید شمسی شعاعیں پرواز کے دوران اہم ڈیٹا کو خراب کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پائلٹس کے لیے طیارے کو کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

November 29, 2025

تقریب میں پاکستان کے بیانیے کو بھرپور پذیرائی ملی، جس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور بھارت کی پشت پناہی سے کام کرنے والے گروہوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔

November 29, 2025

ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف ایک محدود کلین اپ ایکشن کرنے والا تھا، تاہم قطر کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کی گئی۔

November 29, 2025

پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی جنگ صرف دہشتگردوں کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ رواں سال کے دوران ملک بھر میں 67 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے جن میں 1873 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 136 افغان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی افغانستان پر حملہ نہیں کیا، اگر کارروائی ہوئی تو صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ہوگی۔

November 29, 2025

تجارت ضروری ہے مگر سکیورٹی پر سمجھوتہ ناممکن ہے؛ ماہرین کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید

پاکستان نے افغان حکومت سے اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ “ہمیں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں، اور نہ ہی خون اور دہشت گردی کے ذریعے تجارتی روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔”
تجارت ضروری ہے مگر سکیورٹی پر سمجھوتہ ناممکن ہے؛ ماہرین کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر تنقید

دوسری جانب، افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امن اور تعاون صرف اسی وقت ممکن ہے جب افغان سرزمین پاکستان یا خطے کے خلاف استعمال نہ ہو۔

November 29, 2025

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر پاکستان کی افغانستان کے ساتھ پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں سے ملاقات میں کہا جو افغانستان کے ساتھ تجارتی روابط بحال کرنے کے لیے ان سے رجوع کر رہے تھے کہ پاکستان کی افغانستان پالیسی “تباہ کن، غیر عملی اور گزشتہ 45 سال سے ناکام” رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید الزام لگایا کہ پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں افغان عوام کی پشت پر ڈالر کمائے، اور ملک کی موجودہ صورتحال کو “شدید پریشان کن” قرار دیا۔

پاک افغان امور کے ماہرین نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات کے پیش نظر واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے افغانستان کا دورے کیے اور افغان قیادت کے ساتھ تجارتی اور سیکورٹی تعلقات کے بارے میں بات چیت کی۔ اس کے علاوہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں مذاکرات کے طویل تین ادوار ہوئے جو افغانستان کی ضد اور غیر واضح پالیسی کے باعث ناکام رہے۔

پاکستان نے افغان حکومت سے اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ “ہمیں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں، اور نہ ہی خون اور دہشت گردی کے ذریعے تجارتی روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔”

دوسری جانب، افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہوئے ہیں، جس سے پاکستان کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امن اور تعاون صرف اسی وقت ممکن ہے جب افغان سرزمین پاکستان یا خطے کے خلاف استعمال نہ ہو۔

متعلقہ مضامین

کمپنی کے مطابق حال ہی میں ایک اے320 طیارے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے اس خطرے کو بے نقاب کیا کہ شدید شمسی شعاعیں پرواز کے دوران اہم ڈیٹا کو خراب کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پائلٹس کے لیے طیارے کو کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

November 29, 2025

تقریب میں پاکستان کے بیانیے کو بھرپور پذیرائی ملی، جس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور بھارت کی پشت پناہی سے کام کرنے والے گروہوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔

November 29, 2025

ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف ایک محدود کلین اپ ایکشن کرنے والا تھا، تاہم قطر کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کی گئی۔

November 29, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *