خیبر پختونخوا میں شدت پسند تنظیموں کے دعوؤں اور مواصلاتی رویّوں میں ایک واضح تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ روایتی طور پر سرگرم بڑے گروہوں کے میڈیا چینلز غیر معمولی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ اسی دوران متعدد نئے اور گیر معروف نام سامنے آ کر کے پی کے علاقوں میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ ایک جانب تو ٹی ٹی پی کے میڈیا چینل پر سکوت اور دوسری جانب خیبر پختونخوا میں حملوں کی ذمہ داری نئے نام سنبھال رہے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند ماہ سے شدت پسند کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنےکے حوالے سے ایک واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا میں طویل دورانیے سے سرگرم دو بڑی تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان اور اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) اپنے روایتی ناموں سے فعال ہونے کے بجائے دیگر نئے اور غیر معروف عسکریت پسند گروہوں کے ناموں سے سامنے آرہی ہیں۔ مذکورہ نئے گروہ اُنہی علاقوں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں، جو اس سے قبل ٹی ٹی پی جیسے بڑی تنظیمیں قبول کرتی تھی۔
دیکھا جائے تو تحریک طالبان پاکستان کا میڈیا گزشتہ کئی روز سے غیر فعال و متحرک ہے۔ اس میں نہ تو نئے واقعات کی تفصیلات شائع کی جا رہی ہیں اور نہ ہی حالیہ عسکری مہم آپریشن الخندق سے متعلق مواد 27 اکتوبر کے بعد سے جاری کیا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے اس طویل اور غیر متوقع سکوت کی کوئی بھی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔
تاہم 22 نومبر کو ‘منزل’ کے ایک اشاعت میں بنوں میں ہونے والے ایک واقعے کا حوالہ ضرور دیا گیا ہے جسے فقط طالبان کی کارروائی قرار دیا گیا۔ یہ 27 اکتوبر کے بعد پہلا موقع تھا جب ٹی ٹی پی کے پلیٹ فارم سے کسی حملے کا غیر واضح اور مبہم اشارہ دیا گیا ہو۔
غیر معروف عسکریت پسند گروہ
تحریکِ طالبان پاکستان کی اس خاموشی کے برعکس 17 نومبر سے ٹی ٹی پی سے وابستہ ٹیلی گرام چینل ضربِ مومن پر اچانک 31 اکتوبر سے لے کر حالیہ ایام تک ہونے والے حملوں کے دعوے ظاہر ہونے لگے۔ مذکورہ دعوے نئے اور مبہم ناموں کے حوالے سے کی جا رہی ہے جو پہلے میڈیا کے سامنے نہیں تھے۔ جن میں درجِ ذیل گروہ شامل ہیں۔
دفاعِ قدس، انصار الجہاد، تحریکِ لبیک پاکستان فورس۔ خیال رہے کہ مذکورہ تمام گروہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔
نئے دھڑوں کا ظاہر ہونا
اسی دورانیے میں ایک اور نیا نام اسلامی امارت پروٹیکشن فورس بھی سامنے آیا ہے جس کا ایک میڈیا چینل 29 اکتوبر کو بنایا گیا۔ یہ گروہ شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک، دیر، پشاور اور خیبر جیسے علاقوں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہا ہے یہ وہی علاقے ہیں جو ماضی میں ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کی سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں۔
دیکھیں: خیبر پختونخوا میں ڈرون حملے اور داعش کمانڈروں کی موجودگی کی اطلاعات بے بنیاد قرار