ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

May 7, 2026

کابل میں شہری مقامات کو عسکری ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے شواہد نے طالبان حکام کی جانب سے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اور تنصیبات کی محفوظ حیثیت کے خاتمے سے متعلق سنگین قانونی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

May 7, 2026

بین الاقوامی انسانی قانون کی روشنی میں طالبان حکام کی جانب سے کابل میں شہری مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو جنیوا کنونشنز اور روم اسٹیچوٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

May 7, 2026

پاک افواج نے معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر قومی دفاع کی تاریخی کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دشمن کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔

May 7, 2026

جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔

May 6, 2026

پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔

May 6, 2026

کے پی میں شدت پسندی کا بدلتا منظرنامہ: ٹی ٹی پی کی خاموشی اور نامعلوم گروہوں کا سامنے آنا

خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بیانیے میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے میڈیا سکوت اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ دفاعِ قدس، انصار الجہاد اور تحریکِ لبیک پاکستان فورس جیسے نئے گروہ حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بیانیے میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے میڈیا سکوت اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ دفاعِ قدس، انصار الجہاد اور تحریکِ لبیک پاکستان فورس جیسے نئے گروہ حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں۔

اسی طرح اسلامی امارت پروٹیکشن فورس نامی نیا گروہ بھی ان علاقوں میں حملوں کی ذمہ داری لے رہا ہے

December 2, 2025

خیبر پختونخوا میں شدت پسند تنظیموں کے دعوؤں اور مواصلاتی رویّوں میں ایک واضح تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ روایتی طور پر سرگرم بڑے گروہوں کے میڈیا چینلز غیر معمولی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ اسی دوران متعدد نئے اور گیر معروف نام سامنے آ کر کے پی کے علاقوں میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ ایک جانب تو ٹی ٹی پی کے میڈیا چینل پر سکوت اور دوسری جانب خیبر پختونخوا میں حملوں کی ذمہ داری نئے نام سنبھال رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند ماہ سے شدت پسند کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنےکے حوالے سے ایک واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا میں طویل دورانیے سے سرگرم دو بڑی تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان اور اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) اپنے روایتی ناموں سے فعال ہونے کے بجائے دیگر نئے اور غیر معروف عسکریت پسند گروہوں کے ناموں سے سامنے آرہی ہیں۔ مذکورہ نئے گروہ اُنہی علاقوں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں، جو اس سے قبل ٹی ٹی پی جیسے بڑی تنظیمیں قبول کرتی تھی۔

دیکھا جائے تو تحریک طالبان پاکستان کا میڈیا گزشتہ کئی روز سے غیر فعال و متحرک ہے۔ اس میں نہ تو نئے واقعات کی تفصیلات شائع کی جا رہی ہیں اور نہ ہی حالیہ عسکری مہم آپریشن الخندق سے متعلق مواد 27 اکتوبر کے بعد سے جاری کیا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے اس طویل اور غیر متوقع سکوت کی کوئی بھی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔

تاہم 22 نومبر کو ‘منزل’ کے ایک اشاعت میں بنوں میں ہونے والے ایک واقعے کا حوالہ ضرور دیا گیا ہے جسے فقط طالبان کی کارروائی قرار دیا گیا۔ یہ 27 اکتوبر کے بعد پہلا موقع تھا جب ٹی ٹی پی کے پلیٹ فارم سے کسی حملے کا غیر واضح اور مبہم اشارہ دیا گیا ہو۔

غیر معروف عسکریت پسند گروہ
تحریکِ طالبان پاکستان کی اس خاموشی کے برعکس 17 نومبر سے ٹی ٹی پی سے وابستہ ٹیلی گرام چینل ضربِ مومن پر اچانک 31 اکتوبر سے لے کر حالیہ ایام تک ہونے والے حملوں کے دعوے ظاہر ہونے لگے۔ مذکورہ دعوے نئے اور مبہم ناموں کے حوالے سے کی جا رہی ہے جو پہلے میڈیا کے سامنے نہیں تھے۔ جن میں درجِ ذیل گروہ شامل ہیں۔

دفاعِ قدس، انصار الجہاد، تحریکِ لبیک پاکستان فورس۔ خیال رہے کہ مذکورہ تمام گروہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔

نئے دھڑوں کا ظاہر ہونا

اسی دورانیے میں ایک اور نیا نام اسلامی امارت پروٹیکشن فورس بھی سامنے آیا ہے جس کا ایک میڈیا چینل 29 اکتوبر کو بنایا گیا۔ یہ گروہ شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک، دیر، پشاور اور خیبر جیسے علاقوں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہا ہے یہ وہی علاقے ہیں جو ماضی میں ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کی سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں۔

دیکھیں: خیبر پختونخوا میں ڈرون حملے اور داعش کمانڈروں کی موجودگی کی اطلاعات بے بنیاد قرار

متعلقہ مضامین

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

May 7, 2026

کابل میں شہری مقامات کو عسکری ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے شواہد نے طالبان حکام کی جانب سے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اور تنصیبات کی محفوظ حیثیت کے خاتمے سے متعلق سنگین قانونی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

May 7, 2026

بین الاقوامی انسانی قانون کی روشنی میں طالبان حکام کی جانب سے کابل میں شہری مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو جنیوا کنونشنز اور روم اسٹیچوٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

May 7, 2026

پاک افواج نے معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر قومی دفاع کی تاریخی کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دشمن کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔

May 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *