اس سے قبل ہائی کورٹ آف جسٹس کے جج رچرڈ اسپئیرمین کے سی نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

March 4, 2026

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔

March 4, 2026

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

March 4, 2026

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

March 4, 2026

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

March 4, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

March 4, 2026

حمزہ بن لادن زندہ اور افغانستان میں موجود ہے؛ افغان نشریاتی اداروں کا تہلکہ خیز دعویٰ

یاد رہے کہ اس سے قبل 14 ستمبر 2019 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے بیٹے، حمزہ بن لادن، ایک امریکی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔
حمزہ بن لادن زندہ اور افغانستان میں موجود ہے؛ افغان نشریاتی اداروں کا تہلکہ خیز دعویٰ

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس امر کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ القاعدہ افغانستان میں متعدد تربیتی مراکز رکھتی ہے، جن کے لیے پروان، غزنی، لغمان اور ارزگان جیسے صوبوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

December 2, 2025

انٹیلیجنس کنسورشیم نے ایسی ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے صاحبزادے حمزہ بن لادن کو افغانستان میں دکھایا گیا ہے۔ کنسورشیم کے مطابق ویڈیو چند ماہ قبل ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم اس کے ڈیجیٹل شناختی عناصر جان بوجھ کر حذف کر دیے گئے تاکہ مقام کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔

کنسورشیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ویڈیو کا ماحول اور پس منظر ان انٹیلیجنس تجزیات سے مطابقت رکھتا ہے جن کے مطابق حمزہ بن لادن طویل عرصے کی گمنامی کے بعد ممکنہ طور پر افغانستان منتقل ہو چکا ہے۔


افغان خبر رساں ادارے خامہ نیوز نے بھی کنسورشیم کے اس دعوے کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکام نے تاحال اس معاملے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

جاری کردہ ویڈیو میں حمزہ بن لادن کو ایک کھلے مقام پر دکھایا گیا ہے، جہاں پس منظر میں کسی شہری علاقے جیسی ساخت نظر آتی ہے۔ کنسورشیم نے مقام کی نشاندہی نہیں کی، تاہم کہا گیا ہے کہ مناظر ان علاقوں سے مشابہت رکھتے ہیں جنہیں عالمی انٹیلیجنس ادارے القاعدہ کی ممکنہ پناہ گاہ کے طور پر شناخت کرتے رہے ہیں۔

طالبان کی جانب سے ہمیشہ یہی مؤقف سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں کوئی غیر ملکی شدت پسند نیٹ ورکس فعال نہیں اور نہ ہی وہ القاعدہ سمیت کسی گروہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم پاکستان، چین، ایران، روس اور تاجکستان سمیت دنیا بھر میں موجود اداروں اور رپورٹس نے متعدد بار ثبوتوں کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ القاعدہ، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو سال قبل اگست 2022 میں کابل کے علاقے شیرپور میں امریکی ڈرون حملے میں ایمن الظواہری کی ہلاکت نے طالبان اور القاعدہ کے ممکنہ روابط پر عالمی خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا تھا۔


اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس امر کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ القاعدہ افغانستان میں متعدد تربیتی مراکز رکھتی ہے، جن کے لیے پروان، غزنی، لغمان اور ارزگان جیسے صوبوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

فرانسیسی تحقیقی ادارے پیرس جیو پولیٹکس اکیڈمی کی ایک رپورٹ میں یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ حمزہ بن لادن پنجشیر میں موجود ہو سکتا ہے، تاہم اس دعوے کی کوئی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔

نئی فوٹیج کے منظرعام پر آنے کے بعد مغربی انٹیلیجنس ماہرین کے درمیان بحث میں شدت آ گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ویڈیو واقعی مستند ثابت ہو جاتی ہے تو یہ اشارہ ہو سکتا ہے کہ القاعدہ کی قیادت نہ صرف فعال ہے بلکہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم حمزہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں تصدیق میں وقت لگ سکتا ہے اور اس دوران عالمی برادری افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر مزید گہری نظر رکھے گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 14 ستمبر 2019 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے بیٹے، حمزہ بن لادن، ایک امریکی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حمزہ بن لادن ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوا تھا۔

حمزہ بن لادن، جسے 2017 سال قبل امریکہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا، القاعدہ کی آئندہ قیادت کا اہم امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ تقریبا 35 سالہ حمزہ نے کئی آڈیو اور ویڈیو پیغامات میں امریکہ اور دیگر ممالک پر حملوں کی ترغیب دی تھی۔

دیکھیں: افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں تیز؛ فاریاب اور قندوز میں متعدد طالبان ہلاک

متعلقہ مضامین

اس سے قبل ہائی کورٹ آف جسٹس کے جج رچرڈ اسپئیرمین کے سی نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

March 4, 2026

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔

March 4, 2026

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

March 4, 2026

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *