بابری مسجد کے بعد اب اترپردیش کی سنبھل شاہی جامع مسجد مودی سرکار کے نشانے پر ہے، آر ایس ایس اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیمیں جامع مسجد سنبھل کو شہید کرنے کے درپے ہیں۔
انتہا پسند ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ سنبھل مسجد کی جگہ پہلے ہری ہر مندر تھا۔ بھارتی عدالت نے صدیوں پرانی مسجد سے متصل قبرستان کے سروے کا حکم دے دیا جس کے بعد سرکاری ٹیمیں سروے کیلئے موقع پر پہنچ گئیں ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو مسلم کشیدگی کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ نیز اترپردیش پولیس ڈرون کی مدد سے علاقے کی نگرانی کررہی ہے۔
تنازعے کی وجہ
سروے کا حکم ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر دیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کی جگہ پہلے ایک ہندو مندر موجود تھا۔ مسجد کی انتظامیہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
سیاسی ردعمل
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فریقین کو سنے بغیر کارروائی کی ہے جو مزید انتشار کا سبب بنا۔ اسی طرح سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے سروے میں جلد بازی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن انتخابات کے بعد ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آئینی تحفظ
شاہی جامع مسجد کو 1920 میں قدیم آثار کے تحفظ کے قانون اور 1991 کے عبادت گاہوں کے ایکٹ کے تحت محفوظ قرار دیا جا چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے بعد ایسے تنازعات خطے میں مذہبی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔