چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

و جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ کے نشپا بلاک سے یومیہ 3765 بیرل تیل اور ایک کروڑ 12 لاکھ مکعب فٹ گیس کی بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں سے رابطے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے لیے نمائندہ خصوصی بھیجنے کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

النصر کلب کے اسٹار کھلاڑی اپنے نجی طیارے کےای ذریعے سعودی عرب سے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ روانہ ہو گئے ہیں

March 5, 2026

کشمیر انسٹیٹیوٹ جانب سےایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی مظالم نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے

March 5, 2026

شعیب ملک نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چوتھی شادی سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا

March 5, 2026

طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا سلسلہ جاری، سمنگان یونیورسٹی کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، مبصرین کا کہنا ہے کہ گروہ نے زبان اور ثقافت سے متعلق پالیسیوں میں واضح تبدیلیاں کی ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے اپنی حکمرانی کے دوران فارسی اور اوزبیکی زبانوں کے استعمال کو محدود کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا سلسلہ جاری، سمنگان یونیورسٹی کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا

تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس اقدام کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی تبدیلیاں دیگر تعلیمی اداروں میں بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

January 1, 2026

افغانستان میں طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔ مقامی طالبان ذرائع نے ولایت سمنگان سے تصدیق کی ہے کہ اس گروہ نے سمنگان یونیورسٹی کے نئے نصب کردہ سائن بورڈ سے فارسی اور اوزبیکی زبان کے الفاظ حذف کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے تازہ سائن بورڈ پر اب صرف پشتو زبان استعمال کی گئی ہے، جبکہ ماضی میں ادارے کا نام فارسی اور اوزبیکی زبانوں میں بھی درج تھا۔ یہ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، جس میں کسی سرکاری تعلیمی ادارے سے فارسی اور اوزبیکی زبانوں کو باضابطہ طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، مبصرین کا کہنا ہے کہ گروہ نے زبان اور ثقافت سے متعلق پالیسیوں میں واضح تبدیلیاں کی ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے اپنی حکمرانی کے دوران فارسی اور اوزبیکی زبانوں کے استعمال کو محدود کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

لسانی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، افغانستان جیسے کثیراللسانی ملک میں کسی ایک زبان کو فوقیت دینا سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زبانوں کا یہ اخراج نہ صرف اقلیتی شناخت کو کمزور کرتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کے غیر جانبدار کردار پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس اقدام کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی تبدیلیاں دیگر تعلیمی اداروں میں بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات

متعلقہ مضامین

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

و جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ کے نشپا بلاک سے یومیہ 3765 بیرل تیل اور ایک کروڑ 12 لاکھ مکعب فٹ گیس کی بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں سے رابطے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے لیے نمائندہ خصوصی بھیجنے کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

النصر کلب کے اسٹار کھلاڑی اپنے نجی طیارے کےای ذریعے سعودی عرب سے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ روانہ ہو گئے ہیں

March 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *