افغانستان کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے طالبان کی جانب سے ہلاک جنگجو ظفر کی میت کے ساتھ مبینہ بے حرمتی کو بزدلانہ، غیر انسانی اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فرنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عمل نے طالبان کے تشدد پسند، غیر اخلاقی اور غیر انسانی چہرے کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
بیان کے مطابق طالبان کی جانب سے ہلاک جنگجوؤں کی لاشوں کی مسلسل بے حرمتی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ اخلاق، انسانی وقار اور اخلاقی و شرعی اقدار کے میدان میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے کہا کہ جو دشمن بے جان لاشوں سے بھی خوفزدہ ہو، وہ درحقیقت اپنی کمزوری اور مایوسی کا اظہار کر رہا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس حقیقت کی ایک اور مثال ہے کہ طالبان نہ انسانی اصولوں کے پابند ہیں، نہ جنگی اخلاقیات، نہ ہی کسی شرعی یا قومی اقدار کا احترام کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ شہداء کی توہین طالبان کے اخلاقی زوال اور افغان عوام کے عزم کے سامنے ان کی مستقل شکست کی علامت ہے، جسے تاریخ بارہا ثبت کر چکی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ان بے حرمتیوں اور جرائم کا حساب طالبان سے افغان عوام کے سامنے ضرور لیا جائے گا اور کوئی جرم بغیر جواب کے نہیں رہے گا۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے افغان عوام سے اپیل کی کہ وہ ان مظالم کو فراموش نہ کریں اور ایسی غیر انسانی کارروائیوں پر خاموشی اختیار نہ کریں، کیونکہ اجتماعی یادداشت ہی تاریخ کی سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے۔
آخر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مبینہ جنگی جرم کی کھل کر مذمت کرے اور مزاحمتی شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرے۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی