اقوام متحدہ نے افغان طالبان کے چار سالہ اقتدار کے دوران افغانستان میں ہونے والی گرفتاریوں، تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یو این رپورٹ کے مطابق صرف سال 2025 کے دوران افغانستان میں سابق افغان فوج کے 123 اہلکاروں کو قتل کیا گیا، جبکہ 131 افراد کو مختلف نوعیت کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جو انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال پر سوالیہ نشان ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک سابق افغان کمانڈر کو 24 دسمبر کو ایران کے دارالحکومت تہران میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا، جسے طالبان دور میں ہونے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے جوڑا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک افغان انٹیلی جنس اہلکار نے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے، جس سے ملک کے اندر اور باہر جاری پرتشدد سرگرمیوں کے منظم ہونے کا تاثر ملتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق سرکاری اہلکار، سیکیورٹی فورسز کے ارکان اور طالبان مخالف عناصر اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ ان کے خلاف کارروائیوں میں شفاف قانونی عمل کی کمی پائی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کریں، ماورائے عدالت کارروائیوں کا خاتمہ کریں اور تمام شہریوں کو قانونی تحفظ فراہم کریں۔ رپورٹ میں عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے۔
دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت