پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں اضافہ؛ ایک ماہ میں 16 حملے، 48 طالبان اہلکار جاں بحق

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں اضافہ؛ ایک ماہ میں 16 حملے، 48 طالبان اہلکار جاں بحق

مجموعی طور پر این آر ایف اور اے ایف ایف کی ان کارروائیوں میں 48 طالبان جنگجو ہلاک، 25 زخمی اور 3 گاڑیاں تباہ ہوئیں، جو طالبان حکومت کو درپیش مسلسل سیکیورٹی چیلنجز اور ملک میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔

January 12, 2026

افغانستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں شدت دیکھی گئی ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کی جانب سے مختلف صوبوں میں مجموعی طور پر 16 حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 48 طالبان جنگجو ہلاک اور 25 زخمی ہوئے، جبکہ طالبان کی 3 گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ سب سے زیادہ حملے صوبہ قندوز میں رپورٹ ہوئے، جب کہ پنجشیر، بغلان، فاریاب، بدخشاں اور کابل میں بھی طالبان کے انٹیلی جنس چیک پوسٹس، اڈوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مزاحمتی ذرائع کے مطابق این آر ایف نے اس عرصے کے دوران 7 حملے کیے، جن میں 29 طالبان جنگجو ہلاک اور 15 زخمی ہوئے، جبکہ 2 فوجی گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ پنجشیر میں ایک بڑی کارروائی کے دوران طالبان کی ایک بٹالین بیس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 17 طالبان ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ قندوز اور بغلان میں چیک پوسٹس پر حملے کیے گئے اور طالبان کے حملوں کو پسپا کیا گیا، جب کہ ہرات میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران طالبان انٹیلی جنس کے اہلکار ہلاک ہوئے اور اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ قبضے میں لیا گیا۔

این آر ایف کی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کا بنیادی ہدف طالبان کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ قندوز میں متعدد حملوں کے نتیجے میں 5 طالبان ہلاک، 5 زخمی اور 2 گاڑیاں تباہ ہوئیں، جبکہ بغلان میں طالبان کی جانب سے گھات لگا کر کیے جانے والے حملے کو ناکام بنا دیا گیا، جس میں 3 طالبان مارے گئے۔ پنجشیر اور ہرات میں ہونے والے نقصانات کے ساتھ یہ کارروائیاں این آر ایف کی مختلف صوبوں میں آپریشنل صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

دوسری جانب افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے بھی مختلف علاقوں میں 9 حملے کیے، جن میں 20 طالبان جنگجو ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، جبکہ ایک گاڑی تباہ کی گئی۔ اے ایف ایف کی کارروائیاں قندوز، بدخشاں، فاریاب اور کابل میں ہوئیں، جہاں طالبان کے بھرتی مراکز، ریزرو یونٹس، بٹالین بیسز اور انٹیلی جنس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اے ایف ایف کی نمایاں کارروائیوں میں قندوز میں طالبان کے ایک بھرتی مرکز پر حملہ شامل ہے، جس میں ایک اہم کمانڈر سمیت 2 طالبان ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔ بدخشاں میں گورنر آفس کے قریب طالبان کے ریزرو یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ فاریاب میں ایک بٹالین بیس پر حملے کے بعد یکم جنوری کو طالبان کی عدالتی پولیس پر راکٹ حملہ کیا گیا، جس میں 4 طالبان ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ کابل میں بھی طالبان انٹیلی جنس کی گاڑیوں اور چیک پوسٹس پر الگ الگ حملے کیے گئے۔

مجموعی طور پر این آر ایف اور اے ایف ایف کی ان کارروائیوں میں 48 طالبان جنگجو ہلاک، 25 زخمی اور 3 گاڑیاں تباہ ہوئیں، جو طالبان حکومت کو درپیش مسلسل سیکیورٹی چیلنجز اور ملک میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔

دیکھیں: افغان نائب گورنر کے بیٹے سمیت دو بچے اغواء، ریسکیو آپریشن کے بعد رہا

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *