آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فورسز نے فضائی کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر مکمل طور پر تباہ کر دیے۔

October 2, 2026

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ منورہ کے گرڈ اسٹیشن پر ڈرون حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 2, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا

افغان طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا، جس میں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی رہ گیا
افغان طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا، جس میں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی رہ گیا

رپورٹ کے مطابق 4.1 ارب افغانی کی مالی بدانتظامی کا بھی انکشاف ہوا، جس میں زیادہ تر رقم جنگجوؤں کی تنخواہوں اور مراعات پر خرچ ہوئی

January 21, 2026

افغان طالبان حکومت کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کو ترجیح دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں بجٹ کا 88 فیصد حصہ فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور مقامی تحقیقات کے مطابق افغانستان کا ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر 131 ارب افغانی سے گر کر محض 24 ارب افغانی رہ گیا ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں 60 ارب افغانی مالیت کے ترقیاتی منصوبے عملاً معطل ہو چکے ہیں جو تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔

مالیاتی بدانتظامی کے انکشافات

طالبان کی خفیہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف بجٹ نے 4.1 ارب افغانی کی مالی بد عنوانی کی ہے۔ ان اخراجات میں سب سے زیادہ حصہ جنگجوؤں کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے مختص کیا گیا ہے جو بجٹ کا تقریباً 65 فیصد بنتا ہے۔

قیادت پر اخراجات

مزید انکشاف ہوا ہے کہ طالبان قیادت بالخصوص ملا ہیبت اللہ کی سیکورٹی اور دیگر انتظامی اخراجات کے لیے سالانہ اربوں افغانی مختص کیے گئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صرف طالبان قیادت کی سکیورٹی پر سالانہ 2.3 ارب افغانی سے زائد خرچ کیے جا رہے ہیں۔

متاثرہ شعبے

ترقیاتی بجٹ میں کمی کے باعث تعلیمی شعبے میں 3,800 سے زائد اسکولوں کے تعمیر و مرمت کے منصوبے معطل ہو گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں 28 اضلاع میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر رک گئی ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں بشمول 1,200 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور 8 ہائیڈرو پاور منصوبے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔

دیکھیں: افغانستان کے کینسر مریضوں کے لیے بھارت کی 18 اقسام کی ادویات کی فراہمی

متعلقہ مضامین

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فورسز نے فضائی کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر مکمل طور پر تباہ کر دیے۔

October 2, 2026

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ منورہ کے گرڈ اسٹیشن پر ڈرون حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 2, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *