خیبرپختونخوا کے صوبائی قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباداللہ نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر سکیورٹی فنڈز کے ضیاع اور ریاستی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ سکیورٹی کے لیے وفاقی حکومت سے ملنے والے 800 ارب روپے کا انجام کیا ہوا؟۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ پیسے کہاں گئے؟ اتنی خطیر رقم کے باوجود صوبے میں نہ کوئی جدید سی ٹی ڈی قائم ہوئی، نہ فارنزک لیب بنی اور نہ ہی سیف سٹی کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔
انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کرنے کے بجائے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے اور دہشت گردوں کو بھتہ بھی دیتی ہے۔ نیز اس وقت تین افراد کا ٹولہ خیبرپختونخوا کو چلا رہا ہے اور صوبے میں کرپشن کی بھرمار ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ گزشتہ 13 سال سے زیادتی ہو رہی ہے اور اب اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عمران خان نے کہا کہ یہ یوم فتح ہے اور طالبان کو پاکستان لانے والے سہولت کار بھی پی ٹی آئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کو سٹریٹ مارچ کر رہی ہے لیکن خیبرپختونخوا میں ان کا مینڈیٹ ہے اور دو سال میں انہوں نے کوئی تعلیمی ادارہ یا ڈسپنسری نہیں بنائی، باقی صوبے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن خیبرپختونخوا نے ریورس گیئر لگا دیا ہے۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے فاٹا ریفارمز کے پیسوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت بھی عمران خان کی تھی، این ایف سی کے ممبرز میں ان کے لوگ شامل تھے، مگر وہ کچھ نہیں کر سکے۔