ہرات میں نیشنل ریزسٹنس فورسز (این آر ایف) نے اپنی عسکری سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے صوبہ ہرات میں ایک ہفتے کے دوران تین مختلف حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم پانچ طالبان اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق پہلی کارروائی 17 جنوری کو رات 8 بج کر 30 منٹ پر ضلع شندند میں کی گئی، جہاں گشت پر مامور طالبان کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں طالبان کے دو اہلکار رسول شاہ بلخی اور حمیداللہ ہلاک ہو گئے، جبکہ گاڑی میں موجود دیگر دو اہلکار موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
دوسرا حملہ 23 جنوری کو شام تقریباً 6 بجے صوبہ ہرات کے ضلع گزرا میں کیا گیا۔ اس کارروائی میں ایک طالبان ناکے پر دستی بم سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار مرادن خان ہلاک ہو گیا، جبکہ دو دیگر اہلکار فرار ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق این آر ایف کے حملہ آور ناکے سے اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
۵ طالب تروریست در سه عملیات جداگانه نیروهای مقاومت ملی در هرات کشته شدند
— National Resistance Front of Afghanistan (@NRFafg) January 27, 2026
نیروهای جبهه مقاومت ملی در چند روز اخیر عملیاتهای ضد تروریستی خود را در نقاط مختلف ولایت هرات راهاندازی کردند که در آن ۵ عضو گروه تروریستی طالبان به هلاکت رسیدند.
در عملیات نخست که به تاریخ ۲۸ جدی ساعت…
تیسری کارروائی 25 جنوری کو مرکزی ہرات شہر کے مجیدی روڈ پر کی گئی، جہاں طالبان کے خفیہ ادارے جی ڈی آئی کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ گاڑی میں موجود دونوں اہلکار محمد قاسم اور شریف اللہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔ تینوں حملوں میں این آر ایف کے حملہ آور محفوظ رہے۔
این آر ایف نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ دوسری جانب مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہرات میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان حملوں کے علاوہ بھی مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد مارے جا چکے ہیں، جس سے صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
دیکھیں: افغانستان میں تاپی منصوبے کی پیش رفت، 91 کلومیٹر مکمل