7 جنوری کو افغانستان میں طالبان کا خود ساختہ نیا قانون نافذ کیے جانے کے بعد سے غیر حنفیوں کے خلاف معاندانہ کارروائیوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
18 جنوری کو غزنی کے ضلع مالستان سے علماء کونسل کے سابق نائب صدر جان علی اکبری کو حراست میں لے کر غائب کر دیا گیا۔ سورسز کے مطابق جان علی اکبری افغان انٹیلی جنس جی ڈی آئی کی تحویل میں ہے اور اہل خانہ کو بھی اس کے بارے میں لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ اکبری ایک اسکول کا پرنسپل ہے۔ اسے گرفتار کرتے وقت ایک سابق مقامی کمانڈر سے منسلک فوجی سازوسامان رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا، تاہم تحقیقات کے دوران یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں اس پر اسکول کی دستاویزات میں جعلسازی کے الزامات عائد کیے گئے۔
ہمارے سورس کے مطابق اکبری کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ اپنے گھر پر شیعہ طلبا کو فقہ جعفری کی تعلیم دیتا تھا۔ اسے بار بار تنبیہ کی گئی، لیکن وہ اپنا طرز عمل جاری رکھے ہوئے تھا۔ دسمبر میں وہ مقامی گورنر ملا محمد امین جان عمری سے ملاقات کرنے والے شیعہ علما کے وفد میں بھی شامل تھا، جہاں اس نے شیعہ طلبا کے لیے ان کی فقہ کی تعلیم کو ان کا حق قرار دیا تھا، جس پر اس کی گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت