افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے ایک حالیہ اور تہلکہ خیز بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے 2005 میں بگرام جیل سے فرار ہونے والے القاعدہ کے سینیئر ارکان کو ناصرف پناہ دی بلکہ ان کی نقل و حرکت میں براہ راست سہولت کاری بھی کی۔ حقانی کا یہ عوامی اعتراف اس عالمی بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات محض اتفاقی یا سطحی نہیں، بلکہ ایک گہرے آپریشنل تعاون پر مبنی رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس اعتراف نے طالبان کے اس دیرینہ دعوے کی نفی کر دی ہے جس میں وہ عالمی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان کا القاعدہ جیسی تنظیموں سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی 37ویں مانیٹرنگ رپورٹ نے بھی ان انکشافات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، القاعدہ آج بھی طالبان کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کے لیے ایک “سروس پرووائیڈر” اور “فورس ملٹی پلائر” کے طور پر فعال ہے۔ سراج الدین حقانی کی جانب سے القاعدہ کے اہم ارکان کو لاجسٹک تحفظ فراہم کرنے کا اقرار اقوام متحدہ کے ان خدشات کو ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے اب بھی محفوظ پناہ گاہیں اور آپریشنل جگہ موجود ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی کے ان بیانات نے طالبان حکومت کے اس بیانیے کے پرخچے اڑا دیے ہیں جس میں وہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف تعاون کا یقین دلاتے رہے ہیں۔ حقانی کے الفاظ اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کا امتزاج واضح کرتا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی ایک اسٹریٹجک گہرائی رکھتی ہے، جو خطے اور عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ طالبان کا نظریاتی اور آپریشنل ڈھانچہ اب بھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنے والا ملک بن کر ابھر رہا ہے۔