معروف پاکستانی اداکارہ جبار خٹک نے ڈراما انڈسٹری کے غیر پیشہ ورانہ ماحول اور کہانیوں کے سطحی معیار کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں انہوں نے انڈسٹری کے پسِ پردہ چلنے والے غیر انسانی رویوں اور اسکرپٹس میں موجود اخلاقی گراوٹ پر کڑی تنقید کی ہے۔
صحیفہ جبار کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں سنجیدہ اور بامقصد موضوعات کے بجائے صرف گلیمر اور سطحی تفریح کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ کام کی کمی کا شکار نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے شعوری طور پر ایسے درجنوں پروجیکٹس کو ٹھکرایا جن کے پیغام سے وہ متفق نہیں تھیں۔ اداکارہ کے مطابق، انہوں نے صرف ‘بیٹی’ اور ‘بھول’ جیسے ڈراموں کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ ان میں معاشرتی شعور بیدار کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب تک صرف کمرشل کامیابی کو معیار سمجھا جائے گا، تب تک حقیقی اور اثر انگیز کہانیاں بیان نہیں کی جا سکیں گی۔
اداکارہ نے شوٹنگ سیٹس پر فنکاروں کو درپیش سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہوتا ہے۔ فنکاروں کو مہینوں ادائیگیوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور سیٹ پر صفائی ستھرائی کی صورتحال ابتر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرد و خواتین فنکاروں کو ایک ہی کمرے میں تیار ہونے اور آرام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ صحیفہ نے انڈسٹری کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں وقت کی پابندی کرنے والے اور محنتی فنکار کو ‘مشکل’ سمجھا جاتا ہے، جبکہ نخرے دکھانے والے غیر پیشہ ور افراد سب کے پسندیدہ بن جاتے ہیں۔
انہوں نے معاشرے کے تاریک پہلوؤں، جیسے نشے کی لت اور قصور جیسے المناک سانحات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک کڑوا سوال اٹھایا کہ “ہم ان مسائل پر بات کیوں نہیں کرتے جو اصل میں اہم ہیں؟” اداکارہ کے اس بیانیے نے شوبز حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور کئی ساتھی فنکاروں نے ان کے اس جرات مندانہ موقف کی حمایت کی ہے۔