وزارتِ خارجہ نے 27 فروری 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں پاک اٖفغان صورتحال پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے، کہ افغانستان کی سرزمین بار ہا پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے، اور پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت اور حق رکھتا ہے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ 26 فروری کی رات افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں اور عسکری اشتعال انگیزی کا پاکستان کی مسلح افواج نے موثر اور موزوں جواب دیا ہے۔ پاکستان نے اپنا غق دفاع استعمال کرتے ہوئے ہدفی کاروائیاں کیں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر کے ٹھکانوں اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
🔊PR No.5️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) February 27, 2026
Pakistan’s Actions in Self-Defence against Terrorist Attacks and Military Provocations from Afghanistan
🔗⬇️https://t.co/XeuSsxsLs2 pic.twitter.com/L79LsjGRHt
اقدامات کی وضاحت
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کے زمرے میں آتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں پر سیاسی اور سفارتی سطح پر توجہ دلاتا رہا ہے، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد دفاعی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
طالبان حکومت کو انتباہ
ترجمان کے مطابق خبردار کیا گیا کہ اگر طالبان حکومت کی جانب سے مزید اشتعال انگیزی یا پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کا “مناسب، متناسب اور فیصلہ کن” جواب دیا جائے گا۔
عالمی برادری اور افغان حکومت کے لئے پیغام
وزارتِ خارجہ نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور خطے کو پرامن بنانے میں مثبت کردار ادا کریں۔
بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ طالبان حکام پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے باز رہیں اور ان کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
پاکستان کا آئندہ لائحہ عمل
پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔