پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

February 27, 2026

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

February 27, 2026

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

February 27, 2026

پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں لغمان، کنڑ، پکتیا اور پکتیکا کے ان علاقوں میں طالبان کے عسکری مراکز اور بارڈر بٹالینز پر بمباری کی ہے، جس سے سرحدی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے

February 27, 2026

ملک کی معروف مذہبی سیاسی جماعت نے فتنۃ الخوارج کے خلاف ‘آپریشن غضب للحق’ کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان، اسرائیل اور بھارت کے ایما پر پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے

February 27, 2026

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی ساتویں سالگرہ پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سروس چیفس نے مسلح افواج کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دفاعِ وطن کے عزم کو دہرایا ہے

February 27, 2026

فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اور افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پر وزارت خارجہ کا دو ٹوک موقف سامنے آگیا

پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اور افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پر وزارت خارجہ کا دو ٹوک موقف سامنے آگیا

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ 26 فروری کی رات افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں اور عسکری اشتعال انگیزی کا پاکستان کی مسلح افواج نے موثر اور موزوں جواب دیا ہے۔

February 27, 2026

وزارتِ خارجہ نے 27 فروری 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں پاک اٖفغان صورتحال پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے، کہ افغانستان کی سرزمین بار ہا پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے، اور پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت اور حق رکھتا ہے۔


پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ 26 فروری کی رات افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں اور عسکری اشتعال انگیزی کا پاکستان کی مسلح افواج نے موثر اور موزوں جواب دیا ہے۔ پاکستان نے اپنا غق دفاع استعمال کرتے ہوئے ہدفی کاروائیاں کیں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر کے ٹھکانوں اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔


اقدامات کی وضاحت


وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کے زمرے میں آتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں پر سیاسی اور سفارتی سطح پر توجہ دلاتا رہا ہے، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد دفاعی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔


طالبان حکومت کو انتباہ


ترجمان کے مطابق خبردار کیا گیا کہ اگر طالبان حکومت کی جانب سے مزید اشتعال انگیزی یا پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کا “مناسب، متناسب اور فیصلہ کن” جواب دیا جائے گا۔


عالمی برادری اور افغان حکومت کے لئے پیغام


وزارتِ خارجہ نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور خطے کو پرامن بنانے میں مثبت کردار ادا کریں۔


بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ طالبان حکام پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے باز رہیں اور ان کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔


پاکستان کا آئندہ لائحہ عمل


پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

February 27, 2026

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

February 27, 2026

پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں لغمان، کنڑ، پکتیا اور پکتیکا کے ان علاقوں میں طالبان کے عسکری مراکز اور بارڈر بٹالینز پر بمباری کی ہے، جس سے سرحدی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے

February 27, 2026

ملک کی معروف مذہبی سیاسی جماعت نے فتنۃ الخوارج کے خلاف ‘آپریشن غضب للحق’ کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان، اسرائیل اور بھارت کے ایما پر پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے

February 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *