پاک–افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، جس میں دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان نے متعدد سیکٹرز میں طالبان چیک پوسٹوں اور عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی چوکیوں پر جوابی فائرنگ کی ہے، جس سے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
پاکستان نے اس کشیدگی کے بعد اپنے آپریشنز کو “غضب للحق” کا نام دیا ہے جس کے تحت سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کرکے سیکڑوں لڑاکا گاڑیاں اور ٹینک بھی قابو میں لیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں افغان سرزمین سے ہونے والی بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گردی کے جواب میں جاری ہیں۔
دونوں جانب سے جانی نقصان کی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں طالبان رجیم کے عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی فوج کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں اور چوکیوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔
سفارتی سطح پر امن بحال کرنے کی کوششوں میں ترجیحات ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ثالثی کے تحت امن مذاکرات ہوئے تھے، لیکن دونوں فریق اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں ناکام رہے اور بات چیت ختم ہو گئی تھی۔
پاکستان نے واضح اعلان کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین پر دہشت گردانہ کارروائیاں رُک نہیں جاتیں اور طالبان حکومت سیکیورٹی کو کنٹرول نہیں کرتی، تب تک مذاکرات کا کوئی جواز نہیں ہے، اس کے نتیجے میں سفارتی رابطے محدود ہو چکے ہیں۔