لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت کی سزا؟ کابل میں استاد محمد محقق کا ٹی وی بند، جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات

ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت کی سزا؟ کابل میں استاد محمد محقق کا ٹی وی بند، جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات

راہِ فردا ٹی وی 2006 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ چینل افغانستان کی سیاسی صورتحال، سماجی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی پروگرام نشر کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

March 1, 2026

استاد محمد محقق سے منسوب نجی ٹی وی چینل راہِ فردا کی نشریات طالبان حکومت کی جانب سے بند کر دی گئی ہیں، جبکہ چینل کے دفاتر سیل کر کے بعض جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب محمد محقق کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت اور خطے میں تشدد کے خاتمے پر زور دیا تھا، سوشل میڈیا پر زیر بحث آئے۔

ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

راہِ فردا ٹی وی 2006 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ چینل افغانستان کی سیاسی صورتحال، سماجی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی پروگرام نشر کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چینل کی بندش کو افغانستان میں آزادیٔ اظہار کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب محمد محقق کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق محقق نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی تھی اور خطے میں امن و استحکام پر زور دیا تھا، تاہم بعض حلقوں نے اسے سیاسی رنگ دے کر کارروائی کا جواز بنایا۔

طالبان حکام کی جانب سے اس کارروائی پر تاحال باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں تنقیدی آوازوں اور آزاد میڈیا پر دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافتی تنظیموں نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا اداروں کے تحفظ اور اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف افغانستان کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی سفارتی فضا پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔

دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *