افغانستان کے مختلف علاقوں میں آج صبح تقریباً پانچ بجے مبینہ فضائی حملوں کی ایک لہر رپورٹ ہوئی ہے، جن میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم جانی نقصان کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
صوبہ کنڑ
ذرائع کے مطابق ضلع ناری میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اڈے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اب تک کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
کابل
دارالحکومت کے اوپر طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق طالبان فورسز نے فضا میں موجود طیاروں پر فائرنگ کی، تاہم شہر کے اندر کسی فضائی حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
صوبہ پروان
بگرام ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جہاں تین میزائل داغے گئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اڈے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانچ فوجی گاڑیاں تباہ ہونے کی خبر ہے۔ ایک طیارہ ہینگر (جہاں طیارے کھڑے اور محفوظ کیے جاتے ہیں) بھی تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ طالبان ذرائع نے نقصان کی تصدیق کی ہے، تاہم کسی جانی نقصان یا اسلحہ ڈپو کو نقصان کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
صوبہ ننگرہار
غنبری کے علاقے میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، تاہم مزید تفصیلات تاحال دستیاب نہیں ہو سکیں۔
اطلاعات تک رسائی محدود
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے اطلاعات تک رسائی محدود کر دی گئی ہے اور مواصلاتی نظام پر سخت کنٹرول رکھا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکام اندرونی سطح پر صورتحال کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اپنے اہلکاروں سے بھی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔