تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو پاکستان کے خلاف دشمن کی سازشیں کبھی رُکی نہیں ہیں، تاہم اب ان سازشوں کا رخ روایتی میدانِ جنگ سے ہٹ کر سائبر وار فیئر کی جانب ہو چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں مودی کے دورہ اسرائیل نے جس خطرناک گٹھ جوڑ کو جنم دیا، اس کا مقصد پاکستان کے دفاعی و معاشی استحکام کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم دشمن کی اس ڈیجیٹل یلغار کا جواب پاکستان نے نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ انداز میں بھی دیا۔
پاکستانی سائبر ماہرین نے اسرائیل کی متعدد اہم ویب سائٹس کو ہیک کر کے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور ان کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے سرورز پر “اللہ اکبر” اور “وللہ العزۃ ولرسولہ” کے نعرے درج کر کے یہ واضح کر دیا کہ ارضِ پاک کے محافظ ہر محاذ پر بیدار ہیں۔ تل ابیب کا یہ دورہ محض دو ممالک کا ملاپ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کے خلاف ایک ناکام عالمی سازش تھی، جس کا جواب پاکستان نے ڈیجیٹل میدان میں عملی طور پر دے دیا ہے۔
اسرائیل اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی دفاعی قربت نے اب ‘سائبر دہشت گردی’ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور بھارتی جارحیت کے امتزاج سے تیار کردہ ‘پیگاسس’ جیسے سپائی ویئر اور جدید ہیکنگ ٹولز کا استعمال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ دشمن اب ہماری سرحدوں کے اندر داخل ہوئے بغیر ہمارے حساس ڈیٹا، بینکنگ نظام اور عسکری مواصلات پر شب خون مارنے کے درپے ہے۔ مودی حکومت نے اسرائیل سے حاصل کردہ ان جدید ترین سائبر ہتھیاروں کو پاکستان کے خلاف ایک منظم ‘ہائبرڈ وار’ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا اور قومی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔
تاہم دشمن اپنی اس خام خیالی میں شاید یہ بھول گیا ہے کہ پاکستان کا دفاع کسی ایک محاذ تک محدود نہیں۔ جس طرح 1965 کے معرکوں میں دشمن کو عبرت ناک شکست ہوئی اور جس طرح فروری 2019 میں پاکستان کی فضائیہ نے ‘ابھی نندن’ کے غرور کو خاک میں ملا کر دنیا کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا، بالکل اسی طرح آج پاکستان کے سائبر سپاہی ڈیجیٹل سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے ہر دور میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے۔ آج ہماری ‘نیشنل سائبر سکیورٹی فورس’ اور حساس ادارے دشمن کے ہر اس ‘سگنل’ اور ‘کوڈ’ پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو ہماری قومی سلامتی کے خلاف حرکت میں آتا ہے۔
پاکستان کا عزم مصمم ہے کہ چاہے وہ روایتی میدانِ جنگ ہو یا جدید دور کے پیچیدہ کمپیوٹر وائرسز، ارضِ پاک کا دفاع ناقابلِ تسخیر رہے گا۔ بھارت اور اسرائیل کی یہ ڈیجیٹل رقابت پاکستان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ ہم نے ہر محاذ پر ثابت کیا ہے کہ ہم نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں بلکہ جارح کو اس کی زبان میں جواب دینے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ آج کا پاکستان ڈیجیٹل دنیا میں بھی ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرا ہے، جہاں دشمن کی ہر چال اُسی پر پڑ رہی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دشمن چاہے کتنے ہی بھیس بدل کر آئے اور کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے، پاکستان کی بقا اور اس کا وقار ہر قیمت پر مقدم رہے گا۔ تل ابیب اور نئی دہلی کا یہ اشتراک درحقیقت ان کی اپنی اندرونی کمزوری اور خوف کا عکاس ہے، جبکہ پاکستان کا ہر شہری اور ہر سپاہی اپنے ملک کی جغرافیائی اور ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار اور سینہ سپر ہے۔
دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں