مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور ایران اسرائیل براہِ راست تصادم نے عالمی برادری کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف سفارت کاری ہے، ورنہ عالمی معیشت کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ‘عملاً’ بندش محض ایک علاقائی دفاعی قدم نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے خلاف ایک معاشی ایٹم بم چلانے کے مترادف ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ کرہ ارض کی معاشی زندگی کی ضامن ہے۔ خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملانے والی یہ 33 کلومیٹر چوڑی پٹی اس قدر کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے ہونے والی کل تیل کی تجارت کا قریباً ایک تہائی حصہ روزانہ اسی ایک مقام سے گزرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہاں سے یومیہ 21 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جو اسے دنیا کا اہم ترین ‘انرجی کوریڈور’ بناتی ہے۔
لہٰذا جب بھی اس حساس ترین راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپوں پر قیمتوں کے اضافے تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ عالمی سپلائی چین کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی کا ایک ایسا طوفان برپا کرتے ہیں جس کی لپیٹ سے کوئی بھی براعظم محفوظ نہیں رہتا۔
شپنگ کا بحران
دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی مرسک اور ‘میڈیٹیرینین شپنگ کمپنی کی جانب سے اپنی سروسز کی معطلی اس خطرے کی پہلی گھنٹی ہے۔ جب بحری جہاز آبنائے ہرمز کے بجائے ‘کیپ آف گڈ ہوپ’ (افریقہ کے گرد طویل راستہ) کا انتخاب کرتے ہیں، تو سفر کا دورانیہ 10 سے 15 دن بڑھ جاتا ہے اور ایندھن کے اخراجات میں لاکھوں ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافی بوجھ آخر کار صارف کی جیب پر پڑتا ہے، جس سے عالمی سطح پر اشیائے خورونوش اور خام مال کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ یقینی ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ خطہ
جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان اور بھارت کے لیے یہ صورتحال غیر معمولی ہے۔ ان ممالک کی توانائی کی ضروریات کا قریباً 60 سے 70 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے پورا ہوتا ہے۔ بھارت کے وزیرِ پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا یہ اعتراف کہ “بھارت اپنی ضرورت کا بڑا حصہ اسی راستے سے منگواتا ہے”، صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ اگر یہ بندش برقرار رہتی ہے تو ان ممالک میں صنعتی پیداوار رک سکتی ہے اور مہنگائی کی شرح میں ایسا اضافہ ہو سکتا ہے جو معاشرتی استحکام کے لیے خطرہ بن جائے۔
جنگی جنون
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا امریکی افواج کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینا اور خطے میں امریکی و برطانوی آئل ٹینکرز کا نذرِ آتش ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ دنیا اب مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ اور جواب میں تہران کا میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کاروائی کا عزم ظاہر کرنا ثابت کرتا ہے کہ جیو پولیٹیکل نے انسانیت کی معاشی بقا کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
حاصلِ کلام
آبنائے ہرمز کی بندش کا مطلب ہے کہ دنیا ایک ایسی تاریکی کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں توانائی کا بحران معاشی بحران کو جنم دے گا۔ ماہرین معاشی اُمور کا مؤقف ہے کہ عالمی طاقتوں کو اپنی جنگی ہوس چھوڑ کر فی الفور اس اہم گزرگاہ کی بحالی اور خطے میں امن کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ بصورتِ دیگر تاریخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے ایک تنگ آبی راستے کو عالمی معیشت کا قبرستان بنا دیا۔