بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے سے قبل چین کو پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔ اس نے تمام فریقین سے فوجی کاروائیاں روکنے اور تناؤ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ چین کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔‘
ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی جو کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ لڑائی پڑوسی ممالک کو متاثر کر رہی ہے جس پر چین کو گہری تشویش ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام خلیجی ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے چین عالمی برادری کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
جب ان سے اس حوالے سے سوال کیا گیا کہ آیا ایران اور چین کے درمیان سپر سونک اینٹی شپ میزائل سی ایم 302 کا معاہدہ ہونے جا رہا ہے تو انھوں نے اس کی تردید کی۔