طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

May 4, 2026

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

May 4, 2026

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

May 4, 2026

افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق طالبان انٹیلی جنس نے کابل میں ہتھیاروں کی منتقلی کے انکشاف پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سیاہ سنگ میں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

May 4, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان پر داعش سرپرستی کے الزامات بے بنیاد ہیں، جبکہ داعش کی موجودگی افغانستان میں ہے اور اسے طالبان کی حمایت حاصل ہے۔

May 4, 2026

پاکستان نے حالیہ پاک افغان کشیدگی کے دوران جاری کی گئی یوناما کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,081 رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی نے 482 حملوں کی ذمہ داری لی جن میں 558 افراد ہلاک ہوئے، جو مجموعی اموات کا 52 فیصد بنتا ہے۔
پاکستان نے حالیہ پاک افغان کشیدگی کے دوران جاری کی گئی یوناما کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی عوام کے تحفظ کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر درست اور ہدفی کارروائیاں جاری رکھے گا، چاہے شدت پسند عناصر کسی بھی نام یا لباس میں کیوں نہ ہوں۔

March 3, 2026

افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں پر یوناما کی جانب سے جاری بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعلقہ ذرائع نے یوناما کی رپورٹنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پریس ریلیز غیر متوازن اور یک طرفہ معلوم ہوتی ہے۔

ردعمل میں کہا گیا کہ یوناما کی حالیہ پریس ریلیز کا انداز ایسا ہے جیسے یہ کسی غیر سرکاری میڈیا پلیٹ فارم کی تیار کردہ دستاویز ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یوناما کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو افغانستان کی عبوری انتظامیہ یا کالعدم تنظیموں کے مؤقف سے ہم آہنگ ہیں۔

اعداد و شمار مگر شواہد کہاں؟

یوناما نے اپنی رپورٹ میں 42 ہلاکتوں، 104 زخمیوں، 16 ہزار 400 خاندانوں کی نقل مکانی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی سرگرمیوں کی معطلی سے 1 لاکھ 60 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا ذکر کیا ہے۔ تاہم پاکستانی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان اعداد و شمار کی بنیاد، طریقہ کار اور شواہد منظرِ عام پر نہیں لائے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی ادارے کو اعداد و شمار جاری کرتے وقت شفافیت اور تصدیق شدہ طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس کیا کہتی ہیں؟

پاکستانی مؤقف میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم اپنی رپورٹ میں واضح کر چکی ہے کہ افغانستان کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز بعض شدت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔

اسی رپورٹنگ نظام کے مطابق ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں جو مبینہ طور پر لاجسٹک اور آپریشنل معاونت حاصل کرتے ہیں۔ مزید برآں، مانیٹرنگ رپورٹس میں 600 سے زائد حملوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو رپورٹنگ مدت کے دوران کیے گئے، جن میں بعض حملے افغان سرزمین سے ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو مالی معاونت فراہم کیے جانے اور مختلف صوبوں کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں تربیتی مراکز کے قیام کے حوالے سے معلومات موجود ہیں۔ پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی بحران پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے تو اس کے اسباب اور ذمہ دار عناصر کا ذکر بھی ضروری ہے۔

دہشت گردی کے اعداد و شمار

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,081 رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی نے 482 حملوں کی ذمہ داری لی جن میں 558 افراد ہلاک ہوئے، جو مجموعی اموات کا 52 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (پپس) کے مطابق 2024 میں 521 دہشت گرد حملوں میں 852 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2025 میں 699 حملوں میں 1,034 افراد جان سے گئے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ان اعداد و شمار کو نظرانداز کر کے صرف انسانی ہمدردی کا حوالہ دینا تصویر کا مکمل رخ پیش نہیں کرتا۔

افغان مہاجرین اور پاکستان کا مؤقف

ردعمل میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران 40 سے 60 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے خطے میں استحکام اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت یہ بوجھ برداشت کیا، لہٰذا پاکستان کو اخلاقی درس دینے سے قبل زمینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

پاکستان کا دوٹوک مؤقف

ذرائع کے مطابق اگر یوناما اپنی ساکھ برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے قابلِ تصدیق شواہد اور واضح طریقہ کار کے ساتھ رپورٹس جاری کرنی چاہئیں، شدت پسند تنظیموں کے ڈھانچے اور محفوظ پناہ گاہوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، اور دہشت گردی کے بنیادی اسباب پر بات کرنی چاہیے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی عوام کے تحفظ کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر درست اور ہدفی کارروائیاں جاری رکھے گا، چاہے شدت پسند عناصر کسی بھی نام یا لباس میں کیوں نہ ہوں۔

دیکھیے: مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ایران کے خلاف ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ پر عوامی تشویش

متعلقہ مضامین

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

May 4, 2026

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

May 4, 2026

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

May 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *